Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ ہے33 برائی ویسی ہی پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمہ بیشک اس کو پسند نہیں آتے گناہگار
33:۔ ” وجزاء سیئۃ “ اس میں قانون انتقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص سے برائی کی جائے اگر وہ اس کا بدلہ لے تو جائز ہے لیکن زیادتی نہ کرے اور جو شخص دوسرے کے ظلم و زیادتی کو معاف کردے اور اس سے بدلہ نہ لے، بلکہ اس سے صلح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا اجر عطا فرمائے گا اور اس کا یہ عفو و احسان ضائع نہ ہوگا ایسے لوگوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے لیکن لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ من ترک القصاص واصلح بینہ وین الظالم بالعفو (اجفرہ علی اللہ) ای ان اللہ یاجرہ علی ذلک (قرطبی ج 16 ص 40) ۔
Top