Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور جو کوئی بدلہ لے اپنے34 مظلوم ہونے کے بعد سو ان پر بھی نہیں کچھ الزام
34:۔ ” ولمن انتصر بعد ظلمہ “ یہ گذشتہ آیت کے مضمون کی تنویر ہے جو شخص مظلوم ہو اگر وہ ظالم سے ظلم کا بدلہ لے لے تو وہ طعن وملامت کا مستحق نہیں، ” انما السبیل الخ “ یہ ظالم و طاغی کیلئے تخویف اخروی ہے اور یہ پہلی صورت کے مقابلہ میں انتقام کی دوسری صورت ہے۔ یا بتداء ظلم وتعدی کرنے والے مراد ہیں۔ جو لوگ اپنا انتقام لیتے وقت یا ابتداء ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق شر و فساد بپا کرتے اور شرک پھیلاتے ہیں ایسے لوگ قابل مواخذہ ہیں اور ان کے لیے نہایت دردناک عذاب تیار ہے۔ ” ولمن صبر وغفر الخ “ اس میں عفو و درگذر کی ترغیب ہے جو شخص ظالم سے درگذر کرے اور صبر کرے اور اس سے انتقام نہ لے، تو یہ ایک عمل ہے جو شرعاً مطلوب ہے اور اللہ نے اس کا حکم دیا ہے (مظہری، جلالین) ۔
Top