Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو راہ نہ سجھائے35 اللہ تو کوئی نہیں اس کا کام بنانے والا اس کے سوا اور تو دیکھے گناہ گاروں کو جس وقت دیکھیں گے عذاب کہیں گے کسی طرح پھرجانے کی بھی ہوگی کوئی راہ
35:۔ ” ومن یضلل اللہ “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے جو شخص انصاف کی آنکھیں بند کر کے اور محض ضد وعناد کی وجہ سے باغی اور گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہی پھیلانے والے پیشواؤں کی تحریفات کو دیکھ کر گمراہ ہوگیا، شرک کرنے لگا اور حاجات میں غیر اللہ کو پکارنے لگا اور اللہ نے اسے توفیق ہدایت سے محروم کردیا، تو اب اس کا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں جو اسے راہ راست پر لاسکے یا اسے اللہ کے عذاب سے بچا کسے۔ ” وتری الظلمین الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن تم یہ منظر دیکھو گے کہ جب مشرکین عذاب جہنم کا مشاہدہ کریں گے تو التجا کریں گے کہ کیا دنیا میں واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟ تاکہ ہم وہاں جا کر نیک عمل کریں ؟ اور تم یہ بھی دیکھو گے کہ جب ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائیگا تو وہ ذلت و خواری سے سرجھکائے ہوں گے اور جھکی جھکی آنکھوں سے دیکھیں گے ان پر ذلت و رسوائی اس قدر غالب ہوگی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکیں گے۔ ” وقال الذین امنوا الخ “ اس وقت ایمان والے خوش ہوں گے اور کہیں گے یا دنیا میں یوں کہتے ہیں۔ ” یوم القیامۃ “ ، خسروا کے متعلق ہے (روح) ۔ یعنی دراصل تو خسارے میں وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کا خسارہ اٹھائیں گے جب خود بھی اور ان کے مشرک اہل و عیال جہنم میں ڈالیں جائیں گے اور دائمی عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے سن لو، بیشک مشرکین دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Top