Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
مانو اپنے رب کا حکم اس37 سے پہلے کہ آئے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کے یہاں سے نہیں ملے گا تم کو بچاؤ اس دن اور نہ ملے گا الوپ (مکر جانا) ہوجانا
37:۔ ” استجیبوا لربکم “ یہ دوسرے دعوے سے متعلق ہے اور ثمرہ ہے اور تخویف اخروی بھی ہے یعنی جب باغیوں کی تحریریں حجت نہیں تو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کو قبول کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو اور گمراہوں کی تحریفات کے پیچھے نہ جاؤ۔ اجیبوہ بالتوحید والعبادۃ (جلالین) ۔ قبل اس کے کہ وہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کی آمد کوئی روک نہیں سکتا۔ اور وہ لامحالہ آ کر رہے گا۔ مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن۔ ای لایقدر احد علی دفعہ وھو یوم القیامۃ و قیل ھو یوم الموت (خازن ج 6 ص 128) ۔ من اللہ، یاتی کے متعلق ہے یا یوم کی صفت ہے۔ (روح) وہ دن نہایت ہولناک ہوگا اس دن نہ تو تم کہیں بھاگ کر جان بچا سکو گے اور نہ اپنے گناہوں کا انکار ہی کرسکوگے کیونکہ وہ تو تمہارے اعمالناموں میں محفوظ ہوں گے۔
Top