Jawahir-ul-Quran - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر نہ ہوتی4 یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو ان کو عذاب دیتادنیا میں اور آخرت میں ہے ان کے لیے آگ کا عذاب
4:۔ ” ولولا ان کتب “ یہود کو جلا وطن ہونا پڑا اگر دنیا میں جلا وطنی کی ذلت ورسوائی ان کے لیے مقدر نہ ہوتی تو دنیا میں ان کو کسی دوسری نوح کے ذلت آمیز عذاب میں مبتلا کردیا جاتا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ذالک بانہم، دنیا اور آخرت میں ان یہودیوں کے لیے ذلت آمیز اور دردناک عذاب اس لیے مقدر کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پوری پوری مخالفت کی ہے، دعوت اسلام کو ٹھکرادیا ہے، اسلام، پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کی ہیں اور ایسے سرکش لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب نہایت سخت ہے۔
Top