وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور جن لوگوں نے تَبَوَّؤُ : انہوں نے قرار پکڑا الدَّارَ : اس گھر وَالْاِيْمَانَ : اور ایمان مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے يُحِبُّوْنَ : وہ محبت کرتے ہیں مَنْ هَاجَرَ : جس نے ہجرت کی اِلَيْهِمْ : ان کی طرف وَلَا يَجِدُوْنَ : اور وہ نہیں پاتے فِيْ : میں صُدُوْرِهِمْ : اپنے سینوں (دلوں) حَاجَةً : کوئی حاجت مِّمَّآ : اس کی اُوْتُوْا : دیا گیا انہیں وَيُؤْثِرُوْنَ : اور وہ اختیار کرتے ہیں عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ : اپنی جانوں پر وَلَوْ كَانَ : اور خواہ ہو بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ : انہیں تنگی وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس نے بچایا شُحَّ نَفْسِهٖ : بخل سے اپنی ذات کو فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں9 اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے سے وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے ان کے پاس اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو مہاجرین کو دی جائے، اور مقدم رکھتے ہیں ان کو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر فاقہ اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے سو وہی لوگ ہیں مراد پانے والے
9:۔ ” ولذین تبوؤا الدار “ یہ ” الفقراء “ پر معطوف ہے اور اس میں انصار ؓ کے فضل وشرف کا ذکر ہے۔ ” الدار “ سے مدینہ منورہ مراد ہے جو دار الہجرت ہے۔ الایمان کا عامل مقدر ہے۔ ای حصلوا (الشیخ) یا اخلصوا (روح) ۔ اور یہ علفتہا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔ الکلام من باب علفتہا تبنا وماء باردا، ای تبوؤا الدار واخلصو الایمان (روح ج 28 ص 51) ۔ مہاجرین کے علاوہ اس مال فیئ سے انصار پر بھی خرچ کرو جو مہاجرین کی مدینہ میں آمد سے پہلے اس میں سکونت پذیر تھے اور ان کے آنے سے پہلے مخلصانہ ایمان لا چکے تھے۔ ” یحبون من ھاجر الیہم “ مہاجرین سے ان کو دلی محبت ہے اور ان کے دلوں میں مہاجرین کے لیے ہمدردی اور غمگساری کا جذبہ موجزن ہے۔ چناچہ مہاجرین کو جو کچھ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ آزردہ نہیں ہوتے اور اس سے ان کے دلوں میں تنگی نہیں آتی۔ بلکہ وہ اپنی ذات پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود بھی ضرورت مند کیوں نہ ہوں۔ ” حاجۃ “ تنگی اور حسد، حاجۃ حسدا (مدارک) ۔ ” خصاصۃ “ حاجت، ضرورت (روح) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انصار ؓ کے دل دنیوی لالچ اور بخل کی بیماری سے پاک تھے۔ اور جو لالچ اور بخل سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا اصل میں ” الشح “ یہ ہے کہ آدمی دولت کے لالچ اور طمع میں اس قدرت منہمک ہو کہ ظلم و زیادتی سے دوسروں کے مال پر قبضہ کرلے۔ انما الشح الذی ذکرہ اللہ تعالیٰ فی الاقران ان تاکل مال اخیک ظلما (قرطبی ج 18 ص 30) ۔
Top