بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑی برکت ہے2 اس کی جس کے ہاتھ میں ہے3 راج اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے
2:۔ ” تبرک الذی “ یہ سورت کا دعوی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ تائید ” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ۔ (2) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی یوں تعبیر فرماتے ہی۔ برکت از وست ہر برکت و خیر اسی کی طرف سے ہے۔ ” ھو الذی جاء بکل برکۃ وخیر “۔ یہی دعوی سورة الفرقان کی ابتداء میں اس عنوان سے مذکور ہے۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔ الایۃ “ سورة الرحمن میں فرمایا ” تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔ 3:۔ ” بیدہ الملک “ یہ سورت کے دعوے پر پہلی دلیل عقلی عام ہے کہ ساری کائنات کی سلطنت اور اس میں تصرف و اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ ” وھو علی کل شیئ قدیر “ دوسری دلیل عقلی عام اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، اس لیے ہر نعمت و برکت اسی ہی کی طرف سے ہے۔ بیدہ الملک ای ھو المتصرف فی جمیع المخلوقات بما یشاء لا معقب لحکمہ ولا یسئل عما یفعل لقھرہ و حکمتہ وعدلہ (ابن کثیر ج 4 ص 396) ۔ جب ساری کائنات کا مالک وہی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی وہی ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Top