Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 10
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے لَوْ كُنَّا : کاش ہم ہوتے نَسْمَعُ : ہم سنتے اَوْ نَعْقِلُ : یا ہم سمجھتے ہوتے مَا : نہ كُنَّا : ہوتے ہم فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں میں سے
اور کہیں گے اگر ہم8 ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں
8:۔ ” وقاو لو کنا نسمع “ اب مشرکین حسرت و ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کاش ! اگر ہم اللہ کی آیتیں سن کر بلا تفکر و تامل مان لیتے یا سمجھ سوچ کر ان کو قبول کرلیتے تو آج دوزخیوں کے ساتھ نہ ہوتے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگر داعئ حق کی بات محض سن کر بحث و تمحیص کے بغیر ہی اس کی دیانت و امانت پر اعتماد کر کے اس کی دعوت کو قبول کیا جائے تو یہ بھی ذریعہ نجات ہے۔ ای لو کنا نسمع کلام النذیر فن قبلہ جملۃ من غیر بحث وتفتیش اعتمادا علی مالاح صدقہ بالمعجز الخ۔ (روح ج 29 ص 12) ۔ ” فاعترفوا بذنبھم “ اس طرح مشرکین و کفار اپنے جرم کا اقبال کرلیں گے اور ان جہنمیوں کے لیے خدا کی رحمت سے دوری اور محرمی ہوگی۔
Top