Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی ہے10 جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست اب چلو پھرو اس کے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ اس کی دی ہوئی روزی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے
10:۔ ” ھو الذی جعل “ یہ چوتھی دلیل عقلی خاص ہے۔۔ اوپر کا حال تو دیکھ لیا اچھا اب نیچے کی طرف دیکھو۔ یہاں ” ذلولا “ مدار کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے اس زمین کو تمہارے لیے عاجز بنا دیا ہے کہ اس کی راہوں میں چلتے ہو اور اس میں پیدا ہونے والا رزق کھاتے ہو اور پھر آخر اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے جس نے زمین کو ذلول بنایا وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ ذلول، یعنی نہ ایسی سخت اور درشت کہ پاؤں کو چھیل ڈالے اور نہ ایسی نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جائیں۔ ” الیہ النشور “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Top