Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم نڈر ہوگئے11 اس سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں پھر تبہی وہ لرزنے لگے
11:۔ ” ء امنتم من فی السماء۔ تا۔ فکیف کان نکیر “ تخویف دنیوی من فی السماء سے اللہ تعالیٰ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے آسمانوں میں ہونے سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور کیفیت سے بحث کرنا جائز نہیں۔ الایۃ من المتشابہات لکونہ تعالیٰ منزھا عن التمکین فی السماء فمذھب السلف السکوت (مظہری ج 10 ص 25) ۔ وائمۃ السلف لم یذھبوا الی غیرہ تعالیٰ والایۃ عندھم من المتشابہ وقد قال ﷺ امنوا بمتشباہہ ولم یقل اولوہ فھم مومنون بانہ عز وجل فی السماء علی المعنی الذی ارادہ سبحانہ مع کمال التنزیہ (روح ج 29 ص 15) ۔ فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے نڈر ہوگئے ہو اور اس پر مطمئن ہوچکے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں نہیں دھنسا دے گا یا آسمان سے پتھر برسا کر تمہیں ہلاک نہیں کرے گا۔ جب اس کا عذاب کسی شکل میں آگیا تو تمہیں میرے ڈرانے کا حال معلوم ہوجائیگا اور تم جان لوگے کہ میں کس طرح عذاب لاتا ہوں ” نذیر “ مصدر ہے بمعنی انذار (روح) ۔ ان سے پہلے بھی گذشتہ قوموں کے کافروں نے تکذیب کی تو ان پر میرا انکار کیسا رہا۔ نکیر بمعنی انکار ہے اور یائے متکلم محذوف ہے جس پر کسرہ راء دال ہے مقصد عذاب کی شدت وفظاعت کا اظہار ہے۔
Top