Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 19
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور کیا نہیں دیکھتے ہو12 اڑتے جانوروں کو اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور پر جھپکتے ہوئے ان کو کوئی نہیں تھام رہا رحمان کے سوا اس کی نگاہ میں ہے ہر چیز
12:۔ ” اولم یروا “ یہ پانچویں دلیل عقلی خاص۔ مدار کلام ” صٰفت ویقبضن “ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ فضاء میں پرندے صف در صف پرواز کر رہے ہیں، کبھی پروں کو پھیلا لیتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں، فضا میں ان کو تھامنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے اور پھر کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ جب یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے تو برکات دہندہ بھی وہی ہے اور کوئی نہیں۔
Top