Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے بنایا4 مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام اور وہ زبردست ہے بخشنے والا
4:۔ ” الذی خلق الموت “ یہ تیسری دلیل عقلی عام ہے۔ یہ موت وحیات کا سلسلہ اسی نے پیدا فرمایا تاکہ آزمائش کر کے کہ کون نیک عمل کرتا ہے اور کون نہیں اور پھر حساب کتاب بھی وہی لے گا۔ پھر وہ ایسا غالب ہے کہ نہ ماننے والوں کو سزا دے گا اور ایسا مہربان ہے کہ ماننے والوں سے اگر خطائیں ہوجائیں و ان سے اپنے انعامات چھین نہیں لیتا بلکہ استغفار پر در گذر فرماتا ہے اور معافی عطاء کرتا ہے، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Top