Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا ایک جو چلے15 اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر
15:۔ ” افمن یمشی مکبا “ یہ پہلی دو آیتوں پر متفرع ہے اور اس میں مشرک اور موحد کی مثال بیان کی گئی ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ عذاب سے پناہ دینے والا اور رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، تو جو شخص اس کے باوجود پھر اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کرے اور شرک کا راستہ اختیار کرے اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو سرجھکا کر ادھر ادھر دیکھے بغیر جدھر اس کا منہ آجائے ادھر ہی چلا جائے اور اس طرح سیدھی راہ سے ہٹ کر بھٹکتا رہے یہ مشرک کی مثال ہے جو سوچ بچار کے بغیر ہی مشرک باپ دادا کی راہ چلتا ہے اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو سوچ سمجھ کر قدم رکھتا ہے اور سیدھا صراط مستقیم پر چل رہا ہے۔ یہ مومن کی مثال ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو احوال قیامت سے متعلق قرار دیا ہے بیشک یہ قیامت کے احوال میں سے ایک حال ضرور ہے کہ مشرکین سروں کے بل چلیں گے لیکن یہ اس آیت سے متعلق نہیں۔ دونوں تمثیلوں میں تقابل ہے۔ یمشی مکبا۔ یعنی باپ دادا کے باطل دین پر آنکھیں بند کر کے چلتا ہے اس کے مقابلے میں ہے۔ ” سویا “ یعنی توحید کی راہ پر چلتا ہے۔ ” علی وجہہ “ بلا تامل و فکر جس طرف اس کا منہ آجائے ادھر ہی چل پڑتا ہے۔ ” علی صراط مستقیم “ یعنی سوچ سمجھ کر سیدھی راہ پر چلتا ہے۔
Top