Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
تو کہہ وہی ہے جس نے16 تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو
16:۔ ” قل ھو الذی انشاکم “ چھٹی دلی عقلی خاص۔ زمین و آسمان کے احوال کے بعد اب اپنی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہیں سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں عطا کیں، مگر تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ہو۔ ” جعل لکم السمع الخ “ مدار کلام ہے۔ جب یہ قوتیں عطا کرنے والا کوئی اور نہیں، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ ” قل ھو الذی ذرا کم “ ساتویں دلیل عقلی خاص۔ تمہیں پیدا بھی میں نے کیا اور پھر زمین میں تم کو پھیلایا اور آباد کیا اور پھر آخر سب اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے کیا یہ سب کچھ کسی دوسرے نے کیا ہے ؟ نہیں، نہیں ! میں ہی نے کیا ہے تو برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔
Top