Jawahir-ul-Quran - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
تو کہہ بھلا دیکھو20 تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا
20:۔ ” قل ارایتم “ آٹھویں دلیل عقلی خاص۔ ” معین “ بروزن فعیل، معن سے ماخوذ ہے یعنی جاری اور بہتا ہوا یا یہ عین سے اسم مفعول ہے یعنی جو آنکھوں سے نظر آئے۔ عن ابن عباس (بماء معین) ای ظاھر تراہ العیون فھو مفعول وقیل ھو من معن الماء ای کثر، فھو علی ھذا فعیل (قرطبی ج 18 ص 222) ۔ یہ بتاؤ اگر یہ پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے، تو تازہ اور جاری پانی تمہیں کون لا کر دے گا ؟ وہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں تازہ اور میٹھا پانی عطا فرماتا ہے تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟ یہ سب اللہ کی مہربانی ہے، تمہارے خود ساختہ معبود یہ کام نہیں کرسکتے۔ سورة ملک میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات۔” تبرک الذی بیدہ الملک “ چھ عقلی دلیلوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ سوہ ملک ختم ہوئی
Top