Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جائوگے
(115) کیا تم لوگوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے تم کو مہمل اور بےفائدہ اور کھیلنے کو پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جائوگے۔ اور واپس نہیں کئے جائوگے یعنی تمہارا پیدا کرنا حکمت سے خالی ہے۔ عبثا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں یعنی تمہارا پیدا کرنا یہ ہم نے کوئی عبث اور محض بیکار کام کیا ہے۔ معاذ اللہ یا تم کو کھیل تماشے کے لئے پیدا کیا ہے ہم نے تو تم کو اس دارلتکلیف میں تکلیف کے لئے پیدا کیا ہے پھر دارالتکلیف سے دارالجزا کی طرف واپسی لازمی ہے جہاں محسن کو ثواب دیا جائے گا اور مجرم پر عتاب ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا میں تو نیکی اور بدی کا اثر نہیں ملتا اگر دوسرا دن نہ ہو بدلے کا تو یہ سب کھیل تھا۔ 12
Top