Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 12
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : البتہ ہم نے پیدا کیا الْاِنْسَانَ : انسان مِنْ : سے سُلٰلَةٍ : خلاصہ (چنی ہوئی) مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ یعنی منتخب مٹی سے بنایا
(12) اور بلاشبہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے اور نچوڑ سے بنایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے بنایا جو مختلف زمین کے حصوں سے لی گئی تھی یا یہ کہ جنس انسان مراد ہو سب سے پہلا انسان خالص مٹی سے بلاواسطہ بنایا گیا پھر بہ واسطہ غذا جو مٹی سے پیدا ہوتی ہے اور اس غذا سے خون اور منی نکلتی ہے جیسا کہ آگے فرمایا۔ قرآن شریف کے بعض نسخوں میں حضرت شاہ صاحب (رح) کا منہیہ ملا وہ فرماتے ہیں خلاصہ سلالہ بمعنی نچڑا پانی یعنی منی اور جو چیز کہ باہر نکالی جائے کسی چیز سے اور منی آدمی کی۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ جو کسی چیز سے نکالا جائے جیسے جوہر یاست۔
Top