Kashf-ur-Rahman - Al-Qasas : 17
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ تو نے مجھ پر اپنا فضل فرمایا ہے سو میں آئندہ کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا
17۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ اے میرے پروردگار چونکہ تو نے مجھ پر بڑا فضل فرمایا ہے اور بڑے بڑے احسانات کئے ہیں آئندہ کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا ۔ مجرموں سے مراد وہ ہیں جو انسانوں کو گناہ پر ابھاریں خواہ وہ شیاطین الانس ہوں یا شیاطین الجن ہوں ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی غلطی پر توجہ بھی کی اور آئندہ کے لئے شیطانی اور طاغوتی قوتوں سے بچنے کا بھی عہد کیا ، توبہ کی تکمیل میں یہ دونوں باتیں ہوا کرتی ہیں ۔ کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ نہ کہا اس لئے دوسرے دن پھر اسی قسم کے قضیے میں مبتلا ہوئے اور یہ بھی مشہور ہے کہ اس فرعونی مقتول کو رات ہی میں دبا دیا تھا تا کہ پتہ نہ چلے چناچہ قاتل کا سراغ نہیں ملتا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس فریادی کی بھی تقصیر ہوگی اور بخشا انہوں نے جانا الہام سے پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں ۔ 12 حضرت شاہ صاحب (رح) اسرائیلی کی تقصیر کی طرف اس لئے اشارہ فرمایا کہ کم ازکم اس نے فرعونی کے خلاموسیٰ (علیہ السلام) کو ابھارا اور کسی جرم پر ابھارنا بھی جرم ہے۔ اسی لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فلن اکون ظھیر للمجرمین کہا اور جمع کا صیغہ استعمال کیا تا کہ شیطان اور شیطانی کام پر ابھارنے والے سب شامل ہوجائیں۔
Top