Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ خدا کے دین میں بعد اس کے کہ وہ دین لوگوں میں مقبول ہوچکا پھر بھی جھگڑے نکالتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کٹ حجتی خدا کے نزدیک باطل ہے اور ان پر خدا کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
(16) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں بعد اس کے کہ وہ دین لوگوں میں مقبول ہوچکا اور خلق میں مان لیا گیا مسلمانوں سے جھگڑے نکالتے ہیں اور کٹ حجتی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب واقع ہونے والا ہے اور آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ یعنی لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا دین مقبول ہوچکا پھر اس کے بعدجو لوگ مسلمانوں سے خواہ مخواہ کی کج بحثی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کج بحثی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باطل ہے ایسے لوگوں پر دنیا میں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے والا ہے اور آخرت میں یہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ان کتاب والوں کو کہا جو سمجھے کے لوگوں کو بہکاتے ہیں شبہ ڈال کر۔
Top