Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے روزی فراخ کردیتا تو وہ ضرور دنیا میں شرارت کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے ایک مناسب انداز سے رزق اتارتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے۔
(27) اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لئے روزی فراغ کردیتا ہے تو وہ ضرور عام طور سے دنیا میں شرارت کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے ایک مناسب انداز سے رزق اتارتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کا دانا بینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کی روزی فراخ ہوجائے گی تو احتیاج باہمی کا نظام ٹوٹ جائے اور ہر شخص دوسرے سے مستغنی ہوجائے تو نظام عالم گڑ بڑ ہوجائے اور ایک دسورے سے بغاوت کردے اور شرارت شروع ہوجائے۔ امن کی بجائے فسادات شروع ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ایک انداز سے روزی نازل فرماتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے یعنی بندوں کی مصالح سے باخبر اور ان کی حالت کو دیکھنے والا ہے۔
Top