Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے۔
(30) اور تم کو جو مصیبت اور سختی پہنچتی ہے سو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے گناہ تو وہ معاف ہی کردیتا ہے اور درگزر فرمادیتا ہے۔ یہ خطاب مکلفین کو ہے کہ جو مصیبت یا آلام تم کو پہنچتے ہیں وہ تمہاری تقصیرات اور خطائوں کی وجہ سے پہنچتے ہیں خواہ وہ نافرمانی کا کوئی گناہ ہو یا طاعات میں کسی کوتاہی کی پاداش ہو ان تکالیف سے ان تقصیرات کا کفارہ ہوجاتا ہے تکالیف میں دنیا قبر اور حشر مراد ہوسکتے ہیں ہم پانچویں پارے میں من یعمل سوء ایجزبہ کی تسہیل میں مفصلاً عرض کرچکے ہیں اگر کسی مومن کو کانٹا چھبتا ہے یا وہ کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہے اور اس چیز کے تلاش کرنے میں پریشانی ہوتی ہے تو یہ باتیں بھی تقصیرات کی معافی کا سبب بن جاتی ہیں۔ عام طور سے ایسا ہوتا ہے اور کبھی رفع درجات کے لئے بھی اس قسم کی تکالیف کا اللہ تعالیٰ کے بندوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی بحث یہاں نہیں ہے۔ بہرحال معمولی سی تکلیف بھی گناہ سیات کا موجب ہوتی ہیں نبی کریم ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی کھر نیچ لگ جائے یا پائوں پھسل جائے یا بخار ہوجائے یہ سب چیزیں کسی گناہ کی پاداش میں ہوتی ہیں۔ حضرت علی کرم علی وجہہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن میں بڑی امید کی آیت ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ جب کسی گناہ کی سزا دیدے گا تو آخر ت میں اس کا مواخذہ نہیں فرمائے گا مومنوں کے لئے اس آیت میں بڑی بشارت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک مگر نبی داخل نہیں اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر کی اور آخرت کی۔ خلاصہ : یہ ہے کہ یہ خطاب بالغوں کو ہے نابالغوں کو یہ خطاب شامل نہیں اور اسی طرح نبی بھی اس سے مستثنا ہے دنیا میں خواہ کوئی دیکھ پہنچے یا قبر میں کچھ پریشانی ہو یا میدان حشر کی کوئی پریشانی ہو مومن کے لئے یہ تمام تکلیف اور پریشانیاں کفارہ ہیں اس کے گناہوں سے۔ اب آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کہیں اہل زمین سے مواخذہ شروع ہوجائے تو پھر نجات کی کوئی صورت نہیں اور نہ بھاگ کر ہی بچ نکلنے کی شکل ہے۔
Top