Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
سو تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے تو وہ محض دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
(36) سو تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا وہ محض دنیوی زندگی کے لئے برتنا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بدرجہا اس سے بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یعنی یہاں جو کچھ عطا ہوا ہے وہ عارضی زندگی کا عارضی سامان ہے اور اللہ رب العزت کے ہاں جو سامان اہل ایمان اور اہل توکل کو ملنے والا ہے وہ ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے اوپر دنیا کی کھیتی اور آخرت کی کھیتی کا ذکر آیا تھا یہ اسی کا شاید تتمہ ہو دنیوی مال ومتاع کی اور یہاں کے فوائد جس میں مومن اور منکر دونوں برابر ہیں بلکہ منکر کچھ زائد ہیں اس کی تفصیل ظاہر کی کہ یہاں کی نعمتوں کا کوئی اعتبار نہیں آخرت کی نعمتیں بہتر بھی ہیں اور پائیدار بھی۔
Top