Kashf-ur-Rahman - Ash-Shura : 47
اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ
اِسْتَجِيْبُوْا : مان لو۔ قبول کرلو لِرَبِّكُمْ : اپنے رب کے لیے (اپنے رب کی بات کو) مِّنْ : سے قَبْلِ : اس (سے) پہلے اَنْ يَّاْتِيَ : کہ آجائے يَوْمٌ : ایک دن لَّا مَرَدَّ لَهٗ : نہیں پھرنا اس کے لیے۔ ٹلنا اس کے لیے مِنَ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے مَا لَكُمْ : نہیں تمہارے لیے مِّنْ مَّلْجَاٍ : کوئی جائے پناہ يَّوْمَئِذٍ : اس دن وَّمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ نَّكِيْرٍ : کوئی انکار کرنا
تو لوگ اپنے رب کا حکم مان لو قبل اس کے کہ تم پر خدا کی طرف سے وہ دن آجائے جو واپس جو واپس ہونے والا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ ہوئی اور نہ تمہارے لئے کوئی انکار کی گنجائش ہوگی۔
(47) تم لوگ اپنے پروردگار کا حکم مان لو اور اس کا حکم قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس ہونا اور پھرنا نہیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی پناہ گاہ اور بچائو کی جگہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کو مان لو اور قبول کرلو اس دن کے آنے سے پہلے یعنی قیامت کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے آئے پیچھے واپسی نہیں وہ دن ایسا ہے کہ جس دن نہ کہیں بھاگ کر پناہ لے سکو گے نہ اپنے برے اعمال سے انکار ہی کرسکو گے یا نکیر کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر کوئی انکار کرنے والا بھی نہ ہوگا جو یہ پوچھ سکے کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ من اللہ کو بعض لوگوں نے یاتی کے ساتھ اور بعض نے لامردلہ کے ساتھ متعلق کیا ہے ہم نے ایک قول تیسیر میں اور دوسرا قول ترجمے میں اختیار کرلیا ہے آگے اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہیں۔
Top