Kashf-ur-Rahman - At-Taghaabun : 11
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کے اذن سے وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ : اور جو کوئی ایمان لاتا ہے بِاللّٰهِ : اللہ پر يَهْدِ قَلْبَهٗ : وہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
کوئی مصیبت بغیر خدا تعالیٰ کے حکم کے نہیں آیا کرتی اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو خدا اس کے قلب کو صحیح راہ دکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
(11) اور کوئی مصیبت نہیں آئی اور کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچتی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قلبکو صحیح راہ دکھاتا ہے اور اس کے دل کی صحیح رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں راہ بتادے صبر کی۔ خلاصہ : یہ کہ کوئی تکلیف یا سختی بغیر اذن الٰہی کی نہیں آتی۔ طبعاً انسان مصیبت سے گھبراتا اور جزع فزع کرتا ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور کامل مومن ہے اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو صبر ورضا کا راستہ بتادیتا ہے یعنی صبرورضا کی توفیق عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے مصیبت پر صبر ورضا کی راہ اختیار کی اور کن بےصبری اور شکایت کی ڈگر پڑگیا۔
Top