بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
(1) اس سورت کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے اس کو مالغہ بھی کہتے ہیں یہ سورت عذاب قبر کو اس شخص سے روکتی ہے جو اس کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ پڑھ لیا کرتا ہے اس کو منجیہ بھی کہتے ہیں یہ عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ نبی کریم ﷺ سونے سے قبل سوروہ ملک اور الم تنزیل سجدہ کی ضرور تلاوت فرمایا کرتے تھے اس سورت کا نام حدیث میں واقعیہ بھی آیا ہے یہ …قبر میں مردے کو عذاب سے اس طرح بچاتی ہے جس طرح پرندہ اپنے بچے کو پروں میں چھٹا کر بچاتا ہے۔ حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں میں اس بات کو درست رکھتا ہوں کہ یہ سورت ہر مومن کے دل میں ہو یہ سورت عذاب قبر سے اور قیامت کے دن کی پریشانیوں سے اپنے پڑھنے والے کی حفاظت اور اس کی شفاعت کرتی ہے اور اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑتی ہے اور عذاب کو روکتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے بہت بابرکت اور بڑا عالیشان ہے وہ جس کے قبضے میں ساری سلطنت ہے اور جس کے ہاتھ راج ہے وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے۔ برکت کے معنی زیادتی اور بڑھنے کے ہیں یہ زیادتی خواہ حسی ہو یا عقلی حضرت حق تعالیٰ کی طرف برکت کی نسبت باعتبار اس برتری اور بلندی کے ہے جو اس کو اپنی تمام مخلوق پر حاصل ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات میں کوئی اس کی مثل نہیں ہے اسی کے ہاتھ راج ہے۔ یعنی ہر قسم کے تصرفات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ہر نظم ونسق اور تغیرات و تصرفات میں اسی کا حکم چلتا ہے یا وہ مالک الملک ہے جس کو چاہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر الذی بیدہ الملک کے لئے قائم مقام دلیل کے ہے۔
Top