Kashf-ur-Rahman - Al-Waaqia : 11
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
فَاعْتَرَفُوْا : تو وہ اعتراف کرلیں گے بِذَنْۢبِهِمْ : اپنے گناہوں کا فَسُحْقًا : تو لعنت ہے۔ دوری ہے لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں کے لیے
غرض یہ کافر اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے پس یہ اہل دوزخ خدا کی رحمت سے دور ہوں۔
(11) غرض یہ کافر اپنے جرم کا اقرار کریں گے پس یہ اہل دوزخ خدائے تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گی۔ یہ منکر آخر کار اپنے جرم یعنی اپنی غفلت کا اقرار کرلیں گے لیکن یہ اقرار بےوقت ہوگا جس جس وقت اقرار و اعتراف مفید نہیں ہوتا وانی لہ الذکری اس لئے فرماتے ہیں۔ فستحقا الاصحاب السعیر کا مطلب یہ ہے کہالزمہم اللہ ستھایا اسحقھم اللہ سحقا یعنی ہر قسم کے الطاف و عنایات اور مہرومحبت سے دوری ہی دوری ہو ان اصحاب سعیر کو العیاذ باللہ ان منکروں کا ذکر کرنے کے بعد آگے نیک اور ڈرانے والوں کا ذکر فرمایا۔
Top