Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم اپنی بات چھپا کر کہو یا اس کو آواز سے کہو بلا شبہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔
(13) اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا اس کو کھول کر کہو اور آواز سے کہو وہ سب جانتا ہے کیونکہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ کبھی ان منافقوں سے فرماتے تھے کہ تم نے فلاں موقعہ پر یہ کہا فلاں موقعہ پر اپنی مجلس میں یہ بدزبانی کی تو یہ منکر آپس میں چپکے چپکے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بدگوئی کرتے اس پر حضرت حق نے فرمایا کہ تم کوئی بات چھپا کر کہو یا پکار کر اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے، وہ سینوں تک کے بھیدوں سے واقف ہے اور باخبر ہے آگے اسی باخبر ہونے کی دلیل ہے۔
Top