Kashf-ur-Rahman - Al-Waaqia : 49
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی ہے جس نے تمہارے نفع کے لئے زمین کو مسخر و ماتحت کردیا کہ تم اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور خدا کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔
(15) وہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہے کہ جس نے تمہارے نفع کے لئے زمین کو مطیع مسخر اور فرماں بردار کردیا سو اب اس کے کندھوں یعنی اس کے راستوں میں اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا اور اٹھنا ہے۔ یعنی زمین کو باوجود اس کی اتنی وسعت وپنہاں کے تمہارا تابعدار کردیا کہ جس طرح چاہتے ہو اس کو استعمال کرتے ہو۔ اس کی معدنیات کو اپنے کام میں لاتے ہو، کھیتی باڑی کے لئے ہل چلاتے ہو اس کی نباتات سے فائدہ حاصل کرتے ہو اس پر ہر قسم کی تعمیر کرتے ہو اور مویشی کو جس طرح چاہتے ہو کام میں لاتے ہو غرض اس عالم کی ایک بہت بڑی طاقت نمو اور قوت نشو و نما کو تمہارے اختیار میں دے دیا تم اس کے کاندھوں پرچڑھے چڑھے پھرو۔ یعنی جہاں تمہارا جی چاہے سفر کرو ، تجارت کرو ایک جگہ کی پیداوار دوسری جگہ منتقل کرکے نفع کمائو اور دنیوی فوائد حاصل کرو اور اس کی مہربانی سے جو روزی تم کو دی جاتی ہے اس کو کھائو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اس مالک و مختار کو نہ بھول جائو جس نے اتنی بڑی طاقت کو تمہارے لئے پست اور تمہارا تابعدار کردیا ہے اس کا خیال رکھو کہ تم سب کو ایک دن اسی مالک و مختار کی پیشی میں حاضر ہونا ہے اور اس کی جناب میں جی کر اٹھنا ہے۔
Top