Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 26
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
قُلْ : کہہ دیجئے اِنَّمَا الْعِلْمُ : بیشک علم عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ہے وَاِنَّمَآ : اور بیشک اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا ہوں مُّبِيْنٌ : کھلم کھلا
آپ کہہ دیجئے کہ یہ علم تو بس خدا ہی کو ہے اور میں تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
(26) آپ کہہ دیجئے کہ یہ وعدے کی تعیین اور اس کے وقت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو سوائے اس کے نہیں کہ لوگوں کو ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف اور وضاح طور پر - یعنی جب قیامت کا ذکر اور خدا کی جناب میں جمع ہونے کا ذکر سنتے ہیں تو بجائے ایمان لانے کے مسلمانوں سے اور پیغمبر ﷺ سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کب پورا ہوگا اس کی تاریخ بتائو اس کا وقت مقرر کرو اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کی تعیین کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے میرا کام تو صرف اس قدر ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام واضح طور پر بیان کردوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے تم کو ڈرادوں۔ قیامت کی تعیین کا علم میرے پاس نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے۔
Top