Kashf-ur-Rahman - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
آپ فرمائیے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر خدا تعالیٰ مجھ کو میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم فرمائے تو بھی کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا۔
(28) اے پیغمبر ! آپ ان دین حق کے منکروں سے کہیے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم فرمادے اور اپنی رحمت فرمادے تو ان دونوں حالتوں میں تم بتائو کہ کافروں کو اور دین حق کے منکروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا۔ سبحان اللہ ! حضرت حق تعالیٰ نے کیا ہی خوب بات فرمائی کہ تم جو ہماری فکر میں لگے رہتے ہو اور حوادثات زمانہ کا ہمارے لئے انتظار کرتے ہو اور تم اپنے معاملہ پر نظر نہیں کرتے، اچھا فرض کرلو اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو کلمہ گو میرے ساتھ ہیں ان کو ہلاک کردے اور کسی حادثے سے ہم سب ختم ہوجائیں یا نفخہ اولیٰ سے ہم سب مرجائیں یا آخرت میں اپنی شامت اعمال سے ہلاک ہوجائیں یا اللہ تعالیٰ ہم سب پر مہربانی فرمائے کہ موت کے بعد ہم کو راحت نصیب فرمادے اور ہم کو کسی حادثے سے نقصان ہی نہ پہنچے یا آخرت میں ہماری تقصیرات کو معاف فرما کر ہم کو اپنی رحمت میں داخل کرلے۔ ان دونوں حالتوں میں سے ہمیں کوئی بات بھی پیش آئے مگر تم کو دردناک عذاب سے کون بچانے والا ہے، یعنی ہماری فکر چھوڑ دو ہمارے انجام کی فکر نہ کرو، ہمارے ساتھ جو بھی معاملہ ہو تم تو یہ بتائو کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچانے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی نجات کی فکر کرو اور ہمارے انجام کی بحث اور ہمارے انجام کا انتظار کرو ہمارے ساتھ جو برتائو بھی ہونا ہو وہ ہو لیکن یہ واقعہ ہے کہ کافروں کو عذاب خداوندی سے بچانے والا کوئی نہیں آگے مسلمانوں کے امید افزا انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
Top