بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
آپہنچا حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے
خلاصہ تفسیر
اس سورة کا نام سورة نحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صنعت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے اس کا دوسرا نام سورة نعم بھی ہے (قرطبی) نعم بکسر نون نعمت کی جمع ہے اس لئے کہ اس سورة میں خاص طور پر اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے۔
خدا تعالیٰ کا حکم (یعنی سزائے کفر کا وقت قریب) آپہنچا سو تم اس میں (منکرانہ) جلدی مت مچاؤ (بلکہ توحید اختیار کرو اور اس کی حقیقت سنو کہ) وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرئیل) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں جس پر چاہیں (یعنی انبیاء (علیہم السلام) پر) نازل فرماتے ہیں (اور وہ حکم) یہ (ہے) کہ لوگوں کو خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو مجھ سے ہی ڈرتے رہو (یعنی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ سزا ہوگی)

معارف و مسائل
اس سورة کو بغیر کسی خاص تمہید کے ایک شدید وعید اور ہیبت ناک عنوان سے شروع کیا گیا جس کی وجہ مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد (مصطفے ﷺ ہمیں قیامت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب کرنے اور مخالفوں کو سزا دینے کا وعدہ کیا ہے ہمیں تو یہ کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ آپہنچا حکم اللہ کا تم جلد بازی نہ کرو۔
حکم اللہ سے اس جگہ مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کیا ہے کہ ان کے دشمنوں کو زیر و مغلوب کیا جاوے گا اور مسلمانوں کو فتح ونصرت اور عزت و شوکت حاصل ہوگی اس آیت میں حق تعالیٰ نے ہیبت ناک لہجہ میں ارشاد فرمایا کہ حکم اللہ کا آپہنچا یعنی پہنچنے ہی والا ہے جس کو تم عنقریب دیکھ لو گے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں حکم اللہ سے مراد قیامت ہے اس کے آ پہنچنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا وقوع قریب ہے اور پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیامت کا قریب ہونا یا آ پہنچنا بھی کچھ بعید نہیں رہتا (بحر محیط)
اس کے بعد کے جملے میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو حق تعالیٰ کے وعدہ کو غلط قرار دے رہے ہیں یہ کفر و شرک ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں (بحر)
اس آیت کا خلاصہ ایک وعید شدید کے ذریعہ توحید کی دعوت دینا ہے دوسری آیت میں دلیل نقلی سے توحید کا اثبات ہے کہ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک دنیا کے مختلف خطوں مختلف زمانوں میں جو بھی رسول آیا ہے اس نے یہی عقیدہ توحید پیش کیا ہے حالانکہ ایک کو دوسرے کے حال اور تعلیم کی بظاہر اسباب کوئی اطلاع بھی نہ تھی غور کرو کہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار حضرات عقلاء جو مختلف اوقات میں مختلف ملکوں مختلف خطوں میں پیدا ہوں اور وہ سب ایک ہی بات کے قائل ہوں تو فطرۃ انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں ہو سکتی ایمان لانے کے لئے تنہا یہ دلیل بھی کافی ہے۔
لفظ روح سے مراد اس آیت میں بقول ابن عباس اور بقول بعض مفسرین ہدایت ہے (بحر) اس آیت میں توحید کا روایتی اور نقلی ثبوت پیش کرنیکے بعد اگلی آیتوں میں اسی عقیدہ توحید کو عقلی طور سے حق تعالیٰ کی نعمتیں پیش نظر کر کے ثابت کیا جاتا ہے۔
Top