Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 100
لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
لَعَلِّيْٓ : شاید میں اَعْمَلُ : کام کرلوں صَالِحًا : کوئی اچھا کام فِيْمَا : اس میں تَرَكْتُ : میں چھوڑ آیا ہوں كَلَّا : ہرگز نہیں اِنَّهَا : یہ تو كَلِمَةٌ : ایک بات هُوَ : وہ قَآئِلُهَا : کہہ رہا ہے وَ : اور مِنْ وَّرَآئِهِمْ : ان کے آگے بَرْزَخٌ : ایک برزخ اِلٰى يَوْمِ : اس دن تک يُبْعَثُوْنَ : وہ اٹھائے جائیں گے
شاید کچھ میں بھلا کام کرلوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہی کہتا ہے اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں۔
كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ، برزخ کے لفظی معنے حاجز اور فاصل کے ہیں۔ دو حالتوں یا دو چیزوں کے درمیان جو چیز فاصل ہو اس کو برزخ کہتے ہیں اسی لئے موت کے بعد قیامت اور حشر تک کے زمانے کو برزخ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیاوی حیات اور آخرت کی حیات کے درمیان حد فاصل ہے اور معنے آیت کے یہ ہیں کہ جب مرنے والا کافر، فرشتوں سے دوبارہ دنیا میں بھیجنے کو کہتا ہے تو یہ کلمہ تو اس کو کہنا ہی تھا کیونکہ اب عذاب سامنے آ چکا ہے مگر اس کلمہ کا اب کوئی فائدہ اس لئے نہیں کہ وہ اب برزخ میں پہنچ چکا ہے جس کا قانون یہ ہے کہ برزخ سے لوٹ کر کوئی دنیا میں نہیں آتا اور قیامت اور بعث و نشر سے پہلے دوسری زندگی نہیں ملتی۔ واللہ اعلم۔
Top