Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 95
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ
وَاِنَّا : اور بیشک ہم عَلٰٓي : پر اَنْ نُّرِيَكَ : کہ ہم تمہیں دکھا دیں مَا نَعِدُهُمْ : جو ہم وعدہ کر رہے ہیں ان سے لَقٰدِرُوْنَ : البتہ قادر ہیں
اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا ویں جو ان سے وعدہ کردیا ہے
وَاِنَّا عَلٰٓي اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ ، یعنی ہم کو اس پر پوری قدرت ہے کہ ہم آپ کے سامنے ہی آپ کو ان پر عذاب آتا ہوا دکھلا دیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ اس امت پر آنحضرت ﷺ کی برکت سے عذاب عام نہ آنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا ہے وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ، یعنی ہم ان لوگوں کو اس حالت میں ہلاک کرنے والے نہیں کہ آپ ان کے اندر موجود ہوں لیکن خاص خاص لوگوں پر خاص حالات میں عذاب دنیا ہی میں آجانا اس کے منافی نہیں۔ اس آیت میں جیسا کہ فرمایا ہے کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ آپ کو بھی ان کا عذاب دکھلا دیں وہ اہل مکہ پر قحط اور بھوک کا عذاب پھر غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تلوار کا عذاب آپ کے سامنے ہی ان پر پڑچکا تھا (قرطبی)
Top