Maarif-ul-Quran - Al-Qasas : 77
وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠   ۧ
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور جو دی گئی تمہیں مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : سو سامان الْحَيٰوةِ : زندگی الدُّنْيَا : دنیا وَزِيْنَتُهَا : اور اس کی زینت وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر وَّاَبْقٰى : اور باقی رہنے والا۔ تادیر اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : سو کیا تم سمجھتے نہیں
اور جو تم کو ملی ہے کوئی چیز سو فائدہ اٹھا لینا ہے دنیا کی زندگی میں اور یہاں کی رونق ہے اور جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔
تیسرا جواب اس آیت میں دیا گیا وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا الآیتہ جس میں یہ بتلایا کہ اگر بالفرض ایمان لانے کے نتیجہ میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچ ہی جائے تو وہ چند روزہ ہے اور جس طرح دنیا کی عیش و عشرت مال و دولت سب چند روزہ متاع ہے کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی، اسی طرح یہاں کی تکلیف و راحت کی کرے جو پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی ہے ہمیشہ رہنے والی دولت و نعمت کی خاطر چند روزہ تکلیف و مشقت برداشت کرلینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے۔

وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى، یعنی دنیا کا مال و متاع اور عیش و عشرت سب فانی ہے اور یہاں کے اعمال کا جو بدلہ آخرت میں ملنے والا ہے وہ یہاں کے مال و اسباب اور عیش و عشرت سے اپنی کیفیت کے اعتبار سے بھی بہت بہتر ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی راحت و لذت بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور پھر وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بھی ہے بخلاف متاع دنیا کے کہ وہ کتنا ہی بہتر ہو مگر بالاخر فانی اور زائل ہونے والا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی عقلمند آدمی ایسے عیش کو جو کم درجہ بھی ہو اور چند روزہ بھی اس عیش و آرام پر ترجیح نہیں دے سکتا جو راحت و لذت میں اس سے زیادہ بھی ہو اور ہمیشہ رہنے والا بھی ہو۔
عقلمند کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ دنیا کے دھندوں میں زیادہ منہمک نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر میں لگے
امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مال و جائیداد کے متعلق یہ وصیت کر کے مر جائے کہ میرا مال اس شخص کو دے دیا جائے جو سب سے زیادہ عقلمند ہو تو اس مال کے مصرف شرعی وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں مشغول ہوں، کیونکہ عقل کا تقاضا یہی ہے اور دنیا داروں میں سب سے زیادہ عقل والا وہی ہے۔ یہی مسئلہ فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب در مختار باب الوصیت میں بھی مذکور ہے۔
Top