Maarif-ul-Quran - Al-Qasas : 80
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ
وَقَالَ : اور کہا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہیں اُوْتُوا الْعِلْمَ : دیا گیا تھا علم وَيْلَكُمْ : افسوس تم پر ثَوَابُ اللّٰهِ : اللہ کا ثواب خَيْرٌ : بہتر لِّمَنْ : اس کے لیے جو اٰمَنَ : ایمان لایا وَ : اور عَمِلَ : اس نے عمل کیا صَالِحًا : اچھا وَلَا يُلَقّٰىهَآ : اور وہ نصیب نہیں ہوتا اِلَّا : سوائے الصّٰبِرُوْنَ : صبر کرنے والے
اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا اور یہ بات انہیں کے دل میں پڑتی ہے جو سہنے والے ہیں ،
وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ الآیتہ اس آیت میں الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کا مقابلہ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا سے کیا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کا ارادہ اور اس کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں اہل علم کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی فائدہ پر رہتی ہے۔ متاع دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرتے ہیں اور اسی پر قناعت کرتے ہیں۔
Top