Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور جس بات میں جھگڑا کرتے ہو تم لوگ کوئی چیز ہو اس کا فیصلہ ہے اللہ کے حوالے وہ اللہ ہے رب میرا اسی پر ہے مجھ کو بھروسہ اور اسی کی طرف میری رجوع ہے
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان لوگوں سے جو توحید میں آپ سے اختلاف رکھتے ہیں یہ کہئے کہ) جس جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو اس (سب) کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے (وہ یہ ہے کہ دنیا میں دلائل و معجزات کے ذریعہ توحید کا حق ہونا واضح فرما دیا اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت اور ایمان نہ لانے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا) یہ اللہ (جس کی یہ شان ہے) میرا رب ہے (اور تمہارے خلاف و مخالف سے جو کسی تکلیف و نقصان کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے بارے میں) اسی پر توکل رکھتا ہوں اور (دنیا و دین کے سب کاموں میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (اس سے توحید کا مضمون خوب موکد ہوگیا۔ آگے دوسری صفات کمال کے بیان سے اس کی مزید تاکید کی جاتی ہے یعنی) وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (اور تمہارا بھی پیدا کرنے والا ہے چنانچہ) اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) ہواشی کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے ملانے) کے ذریعہ تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے (وہ ذات وصفات میں ایسا کامل ہے کہ) کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والا دیکھنے والا ہے (بخلاف دوسروں کے کہ ان کا سننا دیکھنا بہت محدود ہے اور بمقابلہ اللہ کے سمع و بصر کے کالعدم ہے) اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی (یعنی ان میں تصرف کرنے کا صرف اسی کو حق ہے جس میں سے ایک تصرف یہ ہے کہ) جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور (جس کو چاہے) کم دیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا پورا جاننے والا ہے (ہر ایک کو مصلحت کے مطابق دیتا ہے)۔

معارف و مسائل
(آیت) وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهٗٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جس معاملہ جس کام میں بھی تمہارے آپس میں کوئی اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ کیونکہ اصل حکم صرف اللہ ہی کا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے۔ (آیت) ان الحکم الا للہ۔ اور دوسری اکثر آیات میں جو اطاعت کے حکم میں رسول کو اور بعض آیات میں اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر کو بھی شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ رسول یا اولوالامر جو کچھ فیصلہ یا حکم کرتے ہیں وہ ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ہی حکم ہوتا ہے۔ اگر بذریعہ وحی یا نصوص کتاب و سنت ہے تو اس کا حکم الٰہی ہونا ظاہر ہے۔ اور اگر اپنے اجتہاد سے ہے تو چونکہ اجتہاد کا مدار بھی نصوص قرآن و سنت پر ہوتا ہے اس لئے وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ ہی کا حکم ہے۔ مجتہدین امت کے اجتہادات بھی اس حیثیت سے احکام الٰہیہ میں داخل ہیں۔ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ عام آدمی جو قرآن وسنت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے حق میں مفتی کا فتویٰ ہی حکم شرعی کہلاتا ہے۔
Top