Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی ہے جو اتارتا ہے مینہہ بعد اس کے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق
(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا۔ اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے) یوں تو اللہ تعالیٰ کی عام عادت ہے کہ جب زمین کو پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، بارش برسا دیتے ہیں۔ لیکن یہاں ”نا امید ہوجانے کے بعد“ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ کبھی کبھی باری تعالیٰ مینہ برسانے میں عام عادت کے خلاف اتنی تاخیر کردیتے ہیں جس سے لوگ ناامید ہونے لگیں۔ اس سے آزمائش کے علاوہ اس بات پر تنبیہ مقصود ہوتی ہے کہ بارش اور قحط سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے، وہ جب چاہتا ہے لوگوں کی بداعمالیوں وغیرہ کی بنا پر بارش روک لیتا ہے تاکہ لوگ اس کی رحمت کی طرف متوجہ ہو کر اس کے سامنے عجز و نیاز کا مظاہرہ کریں۔ ورنہ اگر بارش کا بھی کوئی لگا بندھا وقت ہوتا جس سے کبھی سرمو انحراف نہ ہو تو لوگ اسے خالصتاً ظاہری اسباب کے تابع سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بےتوجہ ہوجاتے اور یہاں ”نا امید“ ہونے سے مراد اپنی تدبیروں سے ناامید ہونا ہے، ورنہ اللہ کی رحمت سے مایوسی تو کفر ہے۔
Top