Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 39
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ اِذَآ اَصَابَهُمُ : جب پہنچتی ہے ان کو الْبَغْيُ : کوئی زیادتی هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ : وہ بدلہ لیتے ہیں
اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہو وے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں
ساتویں صفت
(آیت) وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔ یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرتا تو یہ برابر کا انتقام لیتے ہیں۔ اس میں حد مساوات سے تجاوز نہیں کرتے، یہ صفت درحقیقت تیسری صفت کی تشریح و تفصیل ہے۔ کیونکہ تیسری صفت کا مضمون یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے مخالف کو معاف کردیتے ہیں۔ مگر بعض حالات ایسے بھی پیش آسکتے ہیں کہ معاف کردینے سے فساد بڑھتا ہے تو وہاں انتقام لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ اس کا قانون اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اگر کسی جگہ انتقام لینا ہی مصلحت سمجھا جائے تو اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس سے انتقام لینے میں برابری سے آگے نہ بڑھیں ورنہ یہ خود ظالم ہوجائیں گے۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَ آ یعنی برائی کی جزا اس کی برابر برائی کرنا ہے۔ یعنی جتنا نقصان مالی یا جسمانی کسی نے تمہیں پہنچایا ہے ٹھیک اتنا ہی تم پہنچا دو۔ جیسی برائی اس نے تمہارے ساتھ کی ہے ویسی ہی تم کرلو مگر اس میں یہ شرط ہے کہ وہ برائی فی نفسہ گناہ نہ ہو۔ مثلاً کسی شخص نے اس کو جبراً شراب پلا دی تو اس کے جواب میں اس کے لئے جائز نہ ہوگا کہ وہ اس کو زبردستی شراب پلا دے۔
اس آیت میں اگرچہ برابر کا بدلہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے مگر آگے یہ بھی فرما دیا کہ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ۔ یعنی جو معاف کر دے اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ جس میں یہ ہدایت کردی کہ معاف کردینا افضل ہے۔ اس کے بعد دو آیتوں میں اسی کی مزید تفصیل آئی ہے۔
عفو و انتقام میں معتدل فیصلہ
حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ سلف صالحین یہ پسند نہ کرتے تھے کہ مومنین اپنے آپ کو فساق فجار کے سامنے ذلیل کریں اور ان کی جرأت بڑھ جائے۔ اس لئے جہاں یہ خطرہ ہو کہ معاف کرنے سے فساق فجار کی جرأت بڑھے گی وہ اور نیک لوگوں کو ستائیں گے وہاں انتقام لے لینا بہتر ہوگا اور معافی کا افضل ہونا اس صورت میں ہے جبکہ ظلم کرنے والا اپنے فعل پر نادم ہو اور ظلم پر اس کی جرأت بڑھ جانے کا خطرہ نہ ہو۔ قاضی ابوبکر ابن عربی نے احکام القرآن میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا ہے کہ عفو و انتقام کے دونوں حکم مختلف حالات کے اعتبار سے ہیں۔ جو ظلم کرنے کے بعد شرمندہ ہوجائے اس سے عفو افضل ہے اور جو اپنی ضد اور ظلم پر اصرار کر رہا ہو اس سے انتقام لینا افضل ہے۔
اور حضرت اشرف المشائخ نے بیان القرآن میں اس کو اختیار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں مومنین، مخلصین اور صالحین کی دو خصوصیتیں ذکر فرمائی ہیں۔ ھم یغفرون۔ میں تو یہ بتلایا کہ یہ غصہ میں مغلوب نہیں ہوتے بلکہ رحم و کرم ان کے مزاج میں غالب رہتا ہے معاف کردیتے ہیں۔ اور ھم ینتصرون میں یہ بتلایا کہ یہ بھی انہیں صالحین کی خصوصیت ہے کہ اگر کبھی ظلم کا بدلہ لینے کا داعیہ ان کے دل میں پیدا بھی ہو اور بدلہ لینے لگیں تو اس میں حق سے تجاوز نہیں کرتے، اگرچہ معاف کردینا ان کے لئے افضل ہے۔
Top