Maarif-ul-Quran - At-Tawba : 270
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ
وَمَا كَانَ : اور نہیں ہے لِبَشَرٍ : کسی بشر کے لیے اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ : کہ کلام کرے اس سے اللہ اِلَّا وَحْيًا : مگر وحی کے طور پر اَوْ مِنْ : یا، سے وَّرَآئِ حِجَابٍ : پردے کے پیچھے سے اَوْ يُرْسِلَ : یا وہ بھیجتے رَسُوْلًا : کوئی پہنچانے والا فَيُوْحِيَ : تو وہ وحی کرے بِاِذْنِهٖ : ساتھ اس کے اذن کے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہے اِنَّهٗ : یقینا وہ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ : بلند ہے، حکمت والا ہے
اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگر اشارہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیجے کوئی پیغام لانے والا پھر پہنچا دے اس کے حکم سے جو وہ چاہئے تحقیق وہ سب سے اوپر ہے حکمتوں والا
خلاصہ تفسیر
اور کسی بشر (کی بحالت موجودہ) یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے، مگر (تین طریق سے) یا تو الہام سے (کہ قلب میں کوئی اچھی بات ڈال دے) یا حجاب کے باہر سے (کچھ کلام سنا دے جیسے موسیٰ ؑ نے سنا تھا) یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے، پیغام پہنچا دیتا ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ) وہ بڑا عالیشان ہے (اس سے جب تک وہ خود طاقت نہ دے کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا، مگر اس کے ساتھ) بڑی حکمت والا (بھی) ہے (اسی لئے بندوں کی مصلحت سے اس نے کلام کے تین مذکورہ طریقے مقرر فرما دیئے ہیں) اور (جس طرح بشر کے ساتھ ہمارے ہم کلام ہونے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے) اسی طرح (یعنی اس قاعدے کے مطابق) ہم نے آپ کے پاس (بھی) وحی یعنی اپنا حکم بھیجا ہے (اور آپ کو نبی بنایا ہے، اور یہ وحی ایسا ہدایت نامہ ہے کہ آپ کے بےمثل علوم میں اسی کی بدولت ترقی ہوئی، چناچہ اس سے پہلے) آپ کو نہ یہ خبر تھی کہ کتاب (اللہ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا مکمل ترین درجہ جو اب حاصل ہے) کیا چیز ہے (گو نفس ایمان نبی کو نبوت سے پہلے بھی حاصل ہوتا ہے) لیکن ہم نے (آپ کو نبوت اور قرآن دیا اور) اس قرآن کو (آپ کے لئے اولاً اور دوسروں کے لئے ثانیاً) ایک نور بنایا (جس سے آپ کو یہ عظیم علوم اور بلند مرتبہ احوال حاصل ہوئے اور) جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں (پس اس کے نور عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اب جو اندھا ہی ہو وہ اس نور کے نفع سے محروم بلکہ اس کا منکر ہے، جیسے یہ معترضین) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ (اس قرآن اور وحی کے ذریعہ سے عام لوگوں کو) ایک سیدھے رستہ کی ہدایت کر رہے ہیں، یعنی اس خدا کے رستہ کی کہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (آگے ان احکام کے ماننے اور نہ ماننے والوں کی جزا و سزا کا ذکر ہے کہ) یاد رکھو سب امور اسی کی طرف رجوع ہوں گے (پس وہ سب پر جزا و سزا دے گا)۔

معارف و مسائل
مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت یہود کے ایک معاندانہ مطالبہ کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ بغوی اور قرطبی وغیرہ نے لکھا ہے کہ یہود نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہم آپ پر کیسے ایمان لے آئیں جبکہ آپ نہ خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور نہ اس سے بالمشافہ کلام کرتے ہیں جیسا کہ موسیٰ ؑ کلام کرتے اور اللہ تعالیٰ کو دیکھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بالمشافہ کلام کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں۔ خود حضرت موسیٰ ؑ نے بھی بالمشافہ کلام نہیں سنا بلکہ پس پردہ صرف آواز سنی۔
اس آیت میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ کسی بشر سے اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی صرف تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک وحیاً یعنی کسی مضمون کو قلب میں ڈال دینا۔ یہ جاگتے ہوئے بھی ہوسکتا ہے اور نیند میں بصورت خواب بھی، جیسا کہ بہت سی احادیث میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، القی فی روعی۔ یعنی یہ بات میرے دل میں القاء کرگئی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ ان میں شیطانی تصرف نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں عموماً الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتے۔ صرف ایک مضمون قلب میں آتا ہے جس کو وہ اپنے الفاظ میں تعبیر کرتے ہیں۔
دوسری صورت
(آیت) مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ ہے، یعنی جاگتے ہوئے کوئی کلام پس پردہ سنے جیسے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنا مگر زیارت نہیں ہوئی اس لئے زیارت کی درخواست کی (آیت) رب ارنی انظر الیک، جس کا جواب نفی میں دیا گیا، لن ترانی۔
اور یہ حجاب جو انسان کو دنیا میں حق تعالیٰ کی زیارت سے مانع ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو حق تعالیٰ کو چھپا سکے، کیونکہ اس کے نور محیط کی کوئی شے چھپا نہیں سکتی۔ بلکہ انسان کی قوت بینائی کا ضعف ہی اس کے لئے زیارت حق کے درمیان حجاب ہوتا ہے۔ اسی لئے جنت میں جبکہ اس کی بینائی قوی کردی جائے گی تو وہاں ہر جنتی حق تعالیٰ کی زیارت سے مشرف ہوگا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ کی تصریح کے مطابق اہل سنت وا لجماعت کا مذہب ہے۔
یہ قانون جو آیت مذکورہ میں ارشاد ہے، دنیا کے متعلق ہے کہ دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے کلام مشافہتاً یعنی بےحجاب نہیں کرسکتا۔ اور انسان کی تخصیص کلام میں اس لئے ہے کہ گفتگو انسان ہی کے متعلق تھی۔ ورنہ ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں سے بھی اللہ تعالیٰ کا کلام بالمشافہتہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ترمذی کی روایت میں جبرائیل ؑ سے منقول ہے کہ میں بہت قریب ہوگیا تھا اور پھر بھی ستر ہزار حجاب رہ گئے تھے۔ اور شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کا حق تعالیٰ سے بالمشافہ کلام اگر ثابت ہوجائے جیسا کہ بعض علماء کا قول ہے تو وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ وہ کلام اس عالم میں نہیں تھا، عالم سموٰت میں تھا۔ واللہ اعلم۔
تیسری صورت
اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا ہے۔ یعنی کسی فرشتہ جبرائیل وغیرہ کو اپنا کلام دے کر بھیجا جائے وہ رسول کو پڑھ کر سنا دے۔ اور یہی طریقہ عام ہے، قرآن مجید پورا اسی طرح بواسطہ ملائکہ نازل ہوا ہے۔ مذکورہ تفصیل میں لفظ وحی کو صرف القاء فی القلب کے معنی میں لیا گیا ہے مگر اکثر یہ لفظ تمام اقسام کلام ربانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث میں جو وحی آتی ہے اس کی بھی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی تو فرشتہ اپنی اصلی ہئیت میں ہوتا ہے کبھی بشکل انسانی سامنے آتا ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔
Top