Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بھلا وہ کون ہے جو روزی دے تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے اپنی روزی کوئی نہیں پر اڑ رہے ہیں شرارت اور بدکنے پر
(آیت) اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ کا یہی مطلب ہے۔ آگے کفار کے حال پر افسوس ہے جو نہ آیات قدرت میں خود غور کرتے ہیں نہ دوسرے بتانے والوں کی بات سنتے ہیں ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْر یعنی یہ لوگ برابر اپنی سرکشی اور حق سے دوری میں بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ آگے میدان قیامت میں کافرو مومن کا جو حال ہونا ہے اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے میدان میں کفار اس طرح حاضر کئے جاویں گے کہ پاؤں پر چلنے کے بجائے سر کے بل چلیں گے۔ صحیح بخایر و مسلم میں حضرت انس کی روایت ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ کفار چہرے کے بل کیسے چلیں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سج ذات نے ان کو پیروں پر چلایا ہے کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان کو چہروں اور سروں کے بل چلا دے اسی کو اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
Top