Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
تو کہہ وہی ہے جس نے تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیئے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو
(آیت) قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ، یعنی آپ کہہ دیجئے کہا للہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔
سمع و بصر اور قلب کی تخصیص۔ اس میں اعضائے انسانی میں سے ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعرو موقوف ہے۔ فالسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعہ بیان کئے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ یعنی سننا، دیکھنا، سونگھنا، چکھنا اور چھوٹا، سونگھنے کے لئے ناک اور چکھنے کے لئے زبان اور چھونے کی قوت سارے بدن میں حق تعالیٰ نے رکھی ہے۔ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھ بنائی ہے یہاں حق تعالیٰ نے ان پانچوں چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ، وجہ یہ ہے کہ سونگھتے چکھنے اور چھونے سے بہت کم چیزوں کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے اس کے معلومات کا بڑا مدار سننے اور دیکھنے پر ہے اور ان میں سے بھی سننے کو مقدم کیا گیا غور کرو تو معلوم ہوگا کہ انسان کو اپنی عمر میں جتنی معلومات ہوئی ہیں۔ ان میں سنی ہوئی چیزیں بہ نسبت دیکھی ہوئی چیزوں کے بدر جہا زائد ہوتی ہیں اس لئے اس جگہ حواس خمسہ میں سے صرف دو پر اکتفا کیا گیا ہے کہ وہ اصل بنیاد اور مرکز علم کا ہے۔ کانوں سے سنی ہوئی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیزوں اک علم بھی قلب پر موقوف ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ قلب کو مرکز علم قرار دیا ہے۔ بخلاف فلاسفہ کے کہ وہ دماغ کو اس کا مرکز مانتے ہیں۔
اس کے بعد پھر کفار و منکرین کو تنبیہ اور عذاب کی وعید کا بیان ہے۔ آخر سورت میں پھر ایک جملہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر بسنے والو اور اس کو کھود کر کنوئیں بنانے والو اور اس کے پانی سے اپنے پینے پلانے اور نباتات اگانے کا کام لینے الو اس بات کو نہ بھولو کہ یہ سب چیزیں کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں صرف حق تعالیٰ کا عطیہ ہے کہ اس نے پانی برسایا اور اس پانی کو برف کی شکل میں بحر منجمد بنا کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر لاد دیا کہ سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے پھر اس برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر پہاڑوں کی عروق کے ذریعہ زمین کے اندر اتار دیا اور بغیر کسی پائپ لائن کے پوری زمین میں اس کا ایسا جال پھیلا دیا کہ جہاں چاہو زمین کھود کر پانی نکال لو مگر یہ پانی جو اس نے زمین کی اوپر ہی کی سطح پر رکھ دیا ہے جس کو چند فٹ یا گز زمین کھود کر نکالا جاسکتا ہے یہ مالک و خالق کا عطیہ ہے اگر وہ چاہے تو اس پانی کو زمین کے نیچے کی سطح پر اتار دے جہاں تک تمہاری رسائی ممکن نہ ہو۔
Top