Maarif-ul-Quran - Al-Baqara : 227
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے اور رکھا ہے اس کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا
(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے اسلئے اس کو ستارہ ٹوٹنا اور عربی میں انقضاض الکوب کہہ دیتے ہیں (قرطبی)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیاطین جو آسمانی خبریں چرانے کے لئے چڑھتے ہیں وہ کواکب اور ستاروں سے نیچے ہی دفع کردیئے جاتے ہیں (قرطبی) یہاں تک مختلف مخلوقات میں غور و فکر کے ذریعہ حق تعالیٰ کے کمال علم وقدرت کے دلائل بیان ہوئے آگے منکرین اور کفار کا عذاب اور پھر مؤمنین اور اطاعت شعار لوگوں کا ثواب بیان ہوا ہے وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّم سے سات آیتوں تک یہ مضمون چلا ہے۔ آگے پھر وہی علم وقدرت کا بیان ہے۔
Top