Ashraf-ul-Hawashi - An-Nahl : 43
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ
وَمَآ : اور نہیں اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجے مِنْ قَبْلِكَ : تم سے پہلے اِلَّا رِجَالًا : مردوں کے سوا نُّوْحِيْٓ : ہم وحی کرتے ہیں اِلَيْهِمْ : ان کی طرف فَسْئَلُوْٓا : پس پوچھو اَهْلَ الذِّكْرِ : یاد رکھنے والے اِنْ : اگر كُنْتُمْ : تم ہو لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے
اور پیغمبروں کو معجزے اور کتابیں دیکر بھیجا اور (اے پیغمبر اسی طرح ہم نے تجھ پر بھی قرآن اتارا اس لئے کہ تو لوگوں کو سمجھا دے کھول کر بتلاوے جو ان کی طرف اترا9
9 اس آیت میں ” الذکر “ یعنی قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ آنحضرت اپنے قول و عمل سے اس کی توضیح و تشریح فرمائیں کیونکہ آنحضرت کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قرآن کے مجملات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلاً نماز، زکوۃ اور دیگر احکام اسی بنا پر آنحضرت نے فرمایا : الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ کہ خبردار ! مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز یعنی سنت دی گئی ہے۔ پس قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کیلئے سنت سے بےنیازی اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ (از وحیدی)
Top