Fahm-ul-Quran - Al-Baqara : 257
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
وَمَآ : اور نہیں اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجا مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی رسول اِلَّا : مگر لِيُطَاعَ : تاکہ اطاعت کی جائے بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے وَلَوْ : اور اگر اَنَّھُمْ : یہ لوگ اِذْ ظَّلَمُوْٓا : جب انہوں نے ظلم کیا اَنْفُسَھُمْ : اپنی جانوں پر جَآءُوْكَ : وہ آتے آپ کے پاس فَاسْتَغْفَرُوا : پھر بخشش چاہتے وہ اللّٰهَ : اللہ وَاسْتَغْفَرَ : اور مغفرت چاہتا لَھُمُ : ان کے لیے الرَّسُوْلُ : رسول لَوَجَدُوا : تو وہ ضرور پاتے اللّٰهَ : اللہ تَوَّابًا : توبہ قبول کرنیوالا رَّحِيْمًا : مہربان
اور تم طور کے پہلو میں بھی موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا لیکن تم اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کئے گئے کہ) ایک ایسی قوم کو ہشیار کرو جن کے پاس تم سیپہلے کوئی ہشیار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں
یعنی جس طرح تم مدین میں موجود نہ تھے اسی طرح تم طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس آواز دینے کی طرف جس کا ذکر آیت 3 میں گزرا ہے۔ فلما اتھا نودی من شاطی و الراد الایمن الآیۃ مطلب یہ ہے کہ تم ان ساری باتوں سے بیخبر تھے لیکن رحمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ وہ تم کو رسول بنائے اس وجہ سے اس نے تم کو ان باتوں سے باخبر کیا اور یہ تمہاری رسالت کی نہایت واضح دلیلیں ہیں۔ رحمۃ سے پہلے ارسلناک یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔ آنحضرت کی بعثت کا مقصد لتذرقوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یتذکرون یہ آنحضرت ﷺ کے اصل مقصد بعثت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا اہتمام اس لئے فرمایا کہ تم اس قوم کو اقدار کرو جس کے پاس اس سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ یہ اشارہ ہی اسماعیل کی طرف ہے۔ یہ لوگ کتاب و شریعت سے بیخبر امی تھے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے ان کے اندر کسی رسول کی بعثت نہیں ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے مطابق جس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں، ان کی ہدایت کے لئے نبی امی ﷺ کو انہی کے انر سے مبعوث فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے اگر یہ اس کی قدر کریں اور اس کے اندر یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ان کے لئے بہت بڑی نعمت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی خدا کے بھیجے ہوئے منذر کے انذار سے یاد دہانی نہیں حاصل کرتی تو وہ تباہ کردی جاتی ہے۔
Top