بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰم۔
اثبات وحی الہی مع بیان عظمت رب کبریاو وعید بہ شرک ونافرمانی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” حم عسق ....... الی ....... انہ بکل شیء علیم “۔ (ربط) ” گذشہ سورت کے مضامین کا حاصل مخالفین کے اعتراضات کا رد اور ان پر توبیخ وتنبیہ تھا، اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت اور وحی کی عظمت کو ثابت کیا جارہا ہے، اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، اور مجرمین ومنکرین پر توبیخ ووعید بھی ہے کہ یہ اپنے افعال قبیحہ کی سزا سے ہرگز نہیں بچ سکتے ارشاد ہے ، (آیت ) ” حم عسق “۔ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے، اصول دین اور احکام شریعت کی تعیین اور تحقیق کے لیے جیسے آپ ﷺ پر یہ سورت نازل کی جارہی ہے اسی طرح اے ہمارے پیغمبر ﷺ ہم آپ ﷺ پر وحی اتارتے ہیں اور ان پیغمبروں پر بھی جو آپ ﷺ پہلے گذرے، یہ وحی اس خدا کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا زبردست حکمت والا ہے، اس پروردگار کی شان یہ ہے کہ اس کے واسطے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہی سب سے برتر اور بڑی عظیم شان والا ہے اس کی عظمت شان کو اگر کوئی منکر و کافر نہ جانے تو نہ جانے لیکن اس کی عظمت شان کی حقیقت تو یہ ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، اس کی ہیبت و عظمت کو برداشت نہ کرسکنے کی و جہ سے۔ 1، حاشیہ (عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح بخاری اور مسلم میں ہے کہ آسمانوں کا اوپر سے پھٹ پڑنا اللہ رب العزت کی عظمت اور ہیبت بیان فرمایا گیا۔ علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں شاید اس وجہ سے کہ کفر اور شرک کو دیکھ کر آسمان و زمین کانپ جاتے ہیں جیسا کہ سورة مریم میں ہے (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا ان دعوا للرحمن ولدا “۔ جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔ اطت السمآء وحق لھا ان تئط مامن موضع منہ اربعۃ اصابع الاوملک واضع حببھتہ ساجد اللہ “۔ یعنی آسمان کر اہتا ہے ناقابل برداشت بوجھ کی وجہ سے اور ضروری ہے کہ وہ کرا ہے آسمان میں چار انگلی کے بقدر بھی کوئی ایسی جگہ خالی نہیں کہ اس میں کوئی فرشتہ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے سامنے سجدہ میں نہ ہو تو عظمت خداوندی اور اسکی ہیبت و جلال سے آسمان قریب ہے کہ پھٹ پڑیں، اور شرک وکفر سے پھٹ پڑنے کے قریب ہونا بھی اللہ رب العزت کی عظمت ہی کے باعث ہے، لہذا ان دونوں توجہیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ 12۔ ) اور وہ فرشتے جو آسمانوں میں پا کی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی حمد وثناء کے ساتھ اور استغفار کرتے رہتے ہیں زمین والوں کے لیے کیونکہ اللہ کا حق عظمت ادا کرنے سے ہر شخص قاصر ہے خواہ وہ کتنا ہی عابد وزاہد اور مطیع وفرمانبردار ہو اور اس لحاظ سے بندہ اپنے رب کا حق نہ ادا کرسکے لامحالہ مستحق عقوبت ہے تو اس وجہ سے روئے زمین پر بسنے والوں کے لیے فرشتے معافی مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار تیرے حق میں بندوں سے جو کچھ تقصیر وکوتاہی کرہ گئی تو اس سے درگزر فرما، آگاہ ہوجاؤ اے لوگو ! اللہ بڑا ہی مغفرت والا نہایت ہی مہربان ہے کہ اہل ایمان کی تقصیرات اور گناہوں سے درگزر فرماتے ہوئے اپنے انعامات ورحمتوں سے نوازتا ہے، اور کافروں کو بھی اس نے اپنی اسی شان غفوری ورحیمی سے یہ موقع دے دیا کہ جب بھی وہ کفر سے تائب ہو کر خدا کی بندگی کا رخ کریں اور ایمان لائیں تو ان کو دھتکارا نہیں جاتا، اے نبی کریم ﷺ آپ ﷺ ایسے نافرمانوں کو دیکھ کر رنج نہ کریں ایسے لوگوں کی نافرمانی خدا کی شان عظمت میں کوئی کمی نہیں کرستی، اور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبود اور کارساز بنالیے ہیں، اللہ ان کو خوب دیکھ بھال کر رہا ہے، جونہی اس کی حکمت کے لحاظ سے مناسب وقت ہوگا خدا ان کو سزا دے گا اور وہ نہ خدا کے علم سے چھپے ہوئے ہیں اور نہ خدا کی گرفت سے بچ سکتے، اور آپ ﷺ ان کے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے، اور نہ ہی آپ ﷺ کو یہ اختیار ہے کہ آپ ﷺ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کردیں، اور ہم نے اسی طرح جیسا کہ یہ تمام احکام خداوندی آپ ﷺ کے سامنے ہیں آپ ﷺ کی طرف بذریعہ وحی بھیجا ہے، قرآن عربی تاکہ آپ ﷺ ڈرائیں (آیت ) ” ام القری “۔ یعنی مکہ میں بسنے والوں کو اور ان لوگوں کو جو اس کے اردگرد ہیں اور اس دن سے جو میدان حشر میں اولین وآخرین کے جمع ہونے کا ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جس میں بس یہی فیصلہ ہونا ہے کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں۔ 1 حاشیہ (حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ باہر مجلس میں ہماری سامنے تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں دو کتابیں (دستاویزیں) تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو یہ دو کتابیں کیسی ہیں، ہم نے عرض کیا نہیں، یا رسول اللہ ﷺ مگر یہ کہ ہمیں بتا دیں، آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو دائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا، یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے، جس میں اہل جنت کے نام مع ان کے آباد کے ناموں کے اور قبائل کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے آخر میں میزان اجمالی (آخری) لگا دی گئی ہے جس میں نہ کوئی کمی ہوگی اور نہ کوئی اضافہ ہوسکے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو بائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا اس میں اہل جن ہم کے نام ہیں مع ان کے آباؤ اجداد اور قبائل کے ناموں کے اور پھر اخیر میں آخری میزان اجمالی (آخری) لگا دی گئی ہے جس میں نہ کوئی کمی ہوگی اور نہ کوئی اضافہ ہوسکے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو بائیں ہاتھ میں تھی، فرمایا اس میں اہل جہنم کے نام ہیں مع ان کے آباؤ اجداد اور قبائل کے ناموں کے اور پھر اخیر میں میزان لگادی گئی کہ اب آئندہ اس میں نہ کمی ہوگی اور نہ اضافہ ہوگا اس پر حضرات صحابہ ؓ نے عرض کیا تو پھر یا رسول ﷺ اب عمل کیا کیا ضرورت باقی رہ گئی (اگر یہ فیصلہ ہوچکا) آپ ﷺ نے فرمایا سددوا وقاربوا کہ استقامت و پختگی کے ساتھ مسلسل عمل میں لگے رہو اور اعتدال کے ساتھ شریعت کے راستے پر چلتے رہو، جنتی شخص کے لیے جنت کے کام کے ساتھ مہر لگا دی گئی اسی پر اس کا خاتمہ ہوگا، خواہ پہلے وہ کسی قسم کا بھی کام کرچکا ہو، اور جو شخص جہنم کے لیے طے ہوگیا، اس کے واسطے جہنم کے کام کی مہر لگ گئی ہے خواہ وہ پہلے کچھ بھی کرچکا ہو پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ سمیٹتے ہوئے فرمایا۔ ذرغ ربکم من العباد۔ ایک ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” فریق فی الجنۃ “۔ بائیں ہاتھ سے دوسری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” فریق فی السعیر “ (جامع ترمذی) اس موضوع کی تفصیلات مسئلہ تقدیر کے ذیل میں گذر چکیں۔ 12۔ واللہ اعلم بالصواب ‘۔ ) اور سب کچھ اللہ کی حکمت اور اس کی تقدیر سے ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور ان میں ایمان وکفر اور توحید وشرک کا فرق واختلاف نہ ہوتالیکن یہ اللہ کی بےپایاں حکمتیں ہیں کہ وہ جس کو چاہتا ہے ایمان وہدایت کے لیے اس کو اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور جس کو چاہے اس کی بدنصیبی اور شقاوت کی وجہ سے محروم کردے اور ایسے ظالموں کے واسطے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار اور قیامت کے روز جو یوم الجمع ہے یہ ظالم بےسروسامانی اور بدحواسی کے عالم میں عذاب خداوندی میں ڈال دیئے جائیں گے، حق تعالیٰ کی عظمت کو پہچاننا چاہئے اور مشرکین ومنکرین کو اس کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرنا چاہئے، آخر اس طرح کی بےخوفی اور جرأت کس وجہ سے ہے ؟ کیا انہوں نے خدا کے علاوہ اپنے واسطے کچھ مددگار بنا لیے ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بس اللہ ہی ہے جو مددگار ولی ہے۔ وہی سب کا کارساز ہے، بگڑی ہوئی بنانا تو کیا وہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، الغرض توحید وشرک اور ایمان وکفر کا فرق دنیا میں اللہ نے اپنی حکمت سے مقدر فرمایا ہے کیونکہ دنیا دارالامتحان ہے اور آخرت دارالجزاء ہے، اس لیے بحکمت خداوندی ضروری تھا کہ دنیا میں دونوں چیزیں مقدر کی جانیں تاکہ آخرت میں مطیعین کو جزاء اور مجرمین کو سزا دی جائے، اور اللہ رب العرت سے کسی بھی شخص کا حال اور اس کا عمل پوشیدہ نہیں اس لیے اے لوگو ! سن لو تم جس کسی بات پر بھی اختلاف کرو گے پس اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے، اس کی بارگاہ سے ہر چیز کا فیصلہ صادر ہوگا، یہی ہے خدا جو میرا رب ہے بس میں تو اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف ہر حالت میں رجوع کرتا ہوں میں تمہاری مخالفت سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تمہاری کسی قسم کی دلجوئی کے لیے تمہارے طرف مائل ہوسکتا ہوں، وہ پروردگار تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے تمہارے واسطے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے اور اسی طرح مویشیوں میں سے جوڑے انواع و اقسام کے بنائے اور ان جوڑوں کے ملانے اور ازدواجی صورت پیدا فرما دینے کے ذریعے تمہیں پھیلا رہا ہے نسلا بعد نسل، یقیناً وہ پروردگار اپنی ذات جو صفات میں ایسا کامل اور برتر ہے کہ اس کا کوئی مثل نہیں ہے اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی اسی کے تصرف میں تمام کائنات ہے جب چاہا کسی چیز کو خواہ رزق ہو عمل ہدایت وگمراہی ہوراحت و تکلیف ہو نفع ونقصان صحت وبیماری ہو، عزت وذلت ہو ان سب چیزوں کی کنجیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں، اگر وہ کسی چیز کو کھول دے تو کوئی دوسرا بند نہیں کرسکتا۔ اور اگر بند کر دے تو کھول نہیں سکتا یہ سب باتیں دلائل سے ثابت ہیں، جن کے انکار کی عقلا تو کوئی گنجائش نہیں اسی کے قبضہ میں رزق ہے جس کے واسطے چاہے رزق پھیلا دے، اور جس کے واسطے چاہے تنگ کردے بیشک وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جانتا ہے کہ جس کو رزق زیادہ دیا تو کس حکمت سے دیا، اور جس پر تنگی کی تو کس حکمت سے کی۔ من حولھا اور ام القری کا مفہوم : بالعموم مفسرین (آیت ) ” ام القری “۔ سے مکہ مکرمہ عرب کی سرزمین میں قدیم ترین شہر اور قوم عرب کا اصل مولد ومسکن تھا اس وجہ سے مکہ مکرمہ کو ام القری کہا گیا اور تاریخ قدیم میں اسی نام سے اس کو ذکر کیا گیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) اور حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کو اسی وادی میں چھوڑا تھا جیسے ( آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع “۔ میں مکہ مکرمہ کی آبادی کی تفصیل گذر چکی۔ اس آیت مبارکہ میں حضور اکرم ﷺ کو فرمایا جانا کہ آپ ڈرائیں مکہ میں بسنے والوں کو اور اس کے اطراف واکناف میں بسنے والوں کو آنحضرت ﷺ کی عمومی بعثت کے منافی تھیں آپ ﷺ تمام عالم کے لیے داعی اور بشیر ونذیر ہیں تو اس آیت میں تخصیص ام القری ومن حولہا کی یا تو اہل مکہ اور قرب و جوار میں رہنے والوں کی اہمیت کی وجہ سے ہے یا یہ معنی کہ اولا آپ ﷺ ان کو ڈرائیں، پھر تمام دنیا کے انسانوں کو جیسے کہ ابتداء میں ( آیت) ” وانذر عشیرتک الاقربین “۔ میں قرابت دار عشیرہ وقبیلہ والوں کو ڈرانے کا حکم نازل ہوا امام راغب (رح) فرماتے ہیں مکہ مکرمہ کو ام القری اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کرہ ارضی اور تمام روئے زمین کے واسطے یہ حصہ زمین اصل نقطہ مرکز یہ ہے، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ پانی کی سطح پر اللہ رب العزت نے پہلے بلبلے کی طرح یہ ٹکڑا جامد ظاہر فرمایا اور پھر اسی سے ساری زمین بچھائی اور پھیلائی گئی تو تمام آبادی عالم اور خطہ زمین کے لیے یہی جگہ اصل ہوئی اور اصل کو ام یعنی ماں کہا جاتا ہے، امام بغوی (رح) اور شیخ قشیری (رح) نے بھی اسی کو اختیار فرمایا اور یہ کہ کعبہ سرۃ الارض یعنی زمین کی ناف ہے اور تمام دنیا اس کے ارد گرد پھیلائی گئی، اگرچہ جانب شمال میں آبادی زائد ہے، بہ نسبت جنوب کی جانب کے ، آیت مبارکہ ( آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین “۔ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر (رح) اور ابن جریر طبری (رح) نے یہی بیان کیا کہ روئے زمین پر دنیا کی آبادی کی اصل یہی سرزمین مکہ ہے جہاں کعبۃ اللہ ہے، علامہ یاقوت حموی (رح) نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت کا یہ مضمون بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا، اللہ نے ایک ہوا چلائی جس نے پانی کی لہروں کو شق کیا اور پانی کی سطح پر ایک بلبلہ نمودار ہوا جو قبہ کی سی شکل کا تھا پھر اسی سے اللہ نے تمام زمین کو مرکب فرمایا اور بنایا اور سطح زمین کو پانی پر بچھا دیا، متعدد روایات سے ثابت ہے کہ زمین کا جو ٹکڑا سب سے پہلے اللہ نے پیدا فرمایا وہ جگہ کعبۃ اللہ کی ہے تو یہ جگہ روئے زمین کے واسطے نقطہ مرکز یہ ہوا، اس تکوینی مرکزیت کے ساتھ اللہ نے اس کو شرعی مرکزیت بھی عطا کردی، کہ روئے زمین کے انسانوں کو اسی کی طرف عبادت کا حکم دیا، حضرت آدم (علیہ السلام) کے لیے اسی جگہ جنت سے موتیوں کا خیمہ اتار گیا تھا جس کا انہوں نے طواف کیا، پھر اسی جگہ بیت اللہ کی عمارت قائم ہوئی، تفصیل کے لیے ناچیز کی کتاب تاریخ الحرمین ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرزمین مکہ میں آمد اور اس کی آبادی : تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد زمین پر پھیلی تو حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریبا دو ہزار دو سوسینتالیس برس قبل شہر بابل اور اس کے برج کی بنیاد رکھی گئی، یہ شہر ملک عراق میں دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان دو آب میں واقع تھا، اور بقول بعض، فرات کے کنارے پر تھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو تارخ کے بیٹے تھے جن کو آذر بھی کہا جاتا ہے، قصہ اہواز میں پیدا ہوئے جو شہر بابل کے کنارے واقع تھا اور بعض کا خیال ہے خاص شہر بابل میں پیدا ہوئے وہاں کلدانی قوم آباد تھی جو بت پرست تھے، اور بت بنا بنا کر بیچا کرتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ بھی بت پرست بلکہ بت تراش تھے اس زمانہ میں ایک بڑی تعداد لوگوں کی ستاروں کی پوجا کیا کرتی تھی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خداوند عالم نے ابتداء ہی سے رشد وہدایت سے نوازا تھا، بت پرستی اور ستاروں کی پوجا کی بڑی شدومد سے مخالفت کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں کی دلائل وحقائق سے تجہیل وتحمیق بھی کیا کرتے تھے جس کی تفصیل گزشتہ پاروں کی تفسیر میں گذر چکی ہے، قصہ نمردو اور ایسے بعض واقعات کے بعد اللہ رب العزت کی وحی سے آپ (علیہ السلام) اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ہاجرہ (علیہ السلام) کو وادی مکہ کی طرف لے کر روانہ ہوگئے، حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اس وقت شیر خوار بچے تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو یہاں چھوڑ کر شام کی طرف روانہ ہوگئے ایک مشک میں پانی اور کچھ کھجوریں چھوڑ کرگئے، پانی جب ختم ہوگیا اور پیاس کی شدت سے اسمعیل (علیہ السلام) تڑپنے لگے، اور اسی حالت میں حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) پانی تلاش کرنے کے لیے صفاومروہ پہاڑیوں پر چکر لگانے لگیں تو ساتویں چکر پر اسمعیل (علیہ السلام) کی جگہ پر پانی دیکھا دوڑی ہوئی آئیں، یہ زم زم کا چشمہ اللہ نے ظاہر فرمایا، اسی کی یادگار سعی بین الصفاوالمروہ کی صورت میں مقرر کردی گئی، تفصیل کے لیے احادیث وکتب تاریخ کی مراجعت فرمائی جائے، تو جب چاہ زم زم میں ایک کثیر مقدار میں پانی دیکھ کر اس غیر آباد بنجر وادی میں ایک قافلہ نے قیام کرنے اور یہاں سکونت کی درخواست کی، تو ہاجرہ (علیہا السلام) نے تنہائی کے خیال سے ان کو اجازت دیدی کہ بہتر ہے کہ یہاں کچھ لوگ آباد ہوجائیں، اس طرح ابتداء میں یہ ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہوا، یہ قبیلہ جرھم تھا، اہل یمن سے یہ لوگ تھے، حضرت اسمعیل (علیہ السلام) نے انہی لوگوں سے عربی زبان سیکھی، اور ان کے بڑے ہونے پر اس قوم نے اسمعیل (علیہ السلام) کو اپنا سردار بنالیا رفتہ رفتہ یہ مختصر گاؤں ایک عظیم شہر مکہ مکرمہ ہوگیا۔
Top