Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ
: جو کوئی ہے
يُرِيْدُ
: ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے
حَرْثَ الْاٰخِرَةِ
: آخرت کی کھیتی کا
نَزِدْ لَهٗ
: ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے
فِيْ حَرْثِهٖ
: اس کی کھیتی میں
وَمَنْ
: اور جو کوئی
كَانَ
: ہے
يُرِيْدُ
: ارادہ رکھتا
حَرْثَ الدُّنْيَا
: دنیا کی کھیتی کا
نُؤْتِهٖ مِنْهَا
: ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے
وَمَا لَهٗ
: اور نہیں اس کے لیے
فِي
: میں
الْاٰخِرَةِ
: آخرت (میں)
مِنْ نَّصِيْبٍ
: کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
ترغیب دار آخرت وتنبیہ از طلب دنیا وخسارۂ مجرمین وظالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ ...... الی ....... ان اللہ غفور شکور “۔ (ربط) گذشتہ مضمون حق تعالیٰ شانہ کی شان رزاقی اور لطیفی پر ختم فرمایا گیا جس سے بتانا مقصود تھا کہ دنیوی رزق کی تفسیم اللہ رب العرت کے محض رزاق ہونے پر ہے رزق کی کمی اور زیادتی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہونے پر مبنی نہیں ہے، اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ انسان کی سعادت اسی میں مضمر ہے کہ وہ طالب آخرت بنے، اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصودس مجھے، طلب دنیا انسانی زندگی کا مقصد نہیں، اس لیے جو شخص اپنی فکر طلب آخرت بنالے گا خدا کی مدد توفیق اور رحمت شامل ہوگی اور اسکی کوشش کو قبول فرمایا جائے گا، اور اس میں برکت دی جائے گی، لیکن اس کے برعکس اگر اس کا مقصود زندگی دنیا ہی کمانا ہے تو ہم اس کو اگرچہ دنیا دے تو دیں گے مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، تو ارشاد فرمایا جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا تو ہم اضافہ کرتے ہیں اس کے واسطے اس کی کھیتی میں کہ طالب کے اعمال قبول کیے جاتے ہیں اور اس کے ثمرات اجروثواب اور انعام کے اس پر مرتب ہوتے ہیں اور اس پر اضافہ اور برکت سے نوازا جاتا ہے، اعمال حسنہ اور عبادات میں بھی ترقی ہوتی رہتی ہے اور اجر وثواب میں بھی زیادتی ہوتی رہتی ہے جس طرح ایک تخم اور دانہ زمین میں بودئیے جانے کے بعد اس کا سلسلہ نشوونما ہوتا ہے تاآنکہ وہ بلندی کے آخری مقام تک پہنچ جائے، اسی طرح اعمال آخرت کی کھیتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت ) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “۔ یعنی جو شخص ایک نیکی کا کام کرے اس کے واسطے اس سے دس گنا زائدثواب ہے، لیکن جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم دیدیتے ہیں اس کو دنیا میں سے اور پھر آخرت میں اس کے واسطے کوئی حصہ نہیں، بہر کیف اللہ کا مشروع کیا ہوا، یہ دین حق ہے جس کی بنیادی تعلیم اور ہدایت اخلاص ہے، ہر عمل صرف اللہ ہی کے لیے اور آخرت ہی کے واسطے ہونا چاہئے، صرف ایسا ہی عمل قابل قبول ہے، اور مثمر بھی ہے، اخلاص عمل عقیدۂ توحید کے بغیر ممکن نہیں، جو لوگ توحید خداوندی کے قائل نہیں اور انہوں نے شرک جیسے ناپاک اعتقاد سے اپنے قلب کو آلودہ کر رکھا ہے وہ بتائیں کہ کیا ان کے واسطے کچھ شرکاء ہیں کہ جو انہوں نے خدا کے ساتھ تجویز کر رکھے ہیں تو کیا ان شرکاء نے ان کے واسطے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ ظاہر ہے کہ نہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ خدا کے سوا دوسرے معبود انکے لیے کوئی دین تجویز کرلیں جو یقیناً خدا کی اجازت سے نہیں ہوسکتا، اس وجہ سے ایسے مشرکین کے من گھڑت خیالات اور رسول کو یہ کہنا کہ یہ اللہ کا دین ہے محض مہمل اور بےمعنی بات ہے، یہ بات بلاشبہ ایسی تھی کہ فورا ہی اللہ کے عذاب سے ان مجرمین اور گستاخوں کو تباہ کردیا جاتا مگر یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل اور مہلت ہے اور اگر اللہ کا یہ قول فیصل طے شدہ نہ ہوتا کہ ایسے مجرموں کو دنیا میں مہلت دی جائے گی اور آخرت میں عذاب شدید میں مبتلا ہونا پڑے گا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا، اور ان کا کام تمام ہوجاتا اور بیشک ظالموں کو دیکھے گا کہ کانپ رہے ہوں گے ان اعمال سے جو انہوں نے کئے اور وہ عذاب ان پر ضرور مسلط ہو کر رہے گا، جس سے وہ کسی بھی صورت سے نہ بچ سکیں گے، یہ تو منکرین وکافرین کا ہوگا، اور اس کے برعکس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے ان کے واسطے ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں گے اپنے پروردگار کے پاس یہی ہے بہت بڑی فضیلت اور انعام اکرام یہی ہے ہو جس کی بشارت دے رہا ہے، اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور نیکی کے کام کیے، مجر میں کو تنبیہ اور عذاب آخرت سے ڈرانا اور ان کے بالمقابل مومنین ومطیعین کو ثواب آخرت اور نعماء جنت کی بشارت سنانا انتہائی اخلاص اور ہمدردی ہے اگر اس کے باوجودبھی ایسے لوگ جن کی عقلیں بھی بیمار اور قلوب گندہ ہیں وہ اللہ کے پیغمبر کے اخلاص و ہمدردی پر یقین نہیں رکھتے تو اے پیغمبر آپ ﷺ کہہ دیجئے، اے لوگو ! میں تم سے اس مشفقانہ نصیحت اور ہمدردانہ وعظ اور تبلیغ و دعوت پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ہوں، اور اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر صرف اس محبت کا جو قرابت داری میں ہوتی ہے کہ تم میرے ساتھ اس قرابت نسبتی کا جو مجھے قریش کے ہر قبیلہ اور شاخ کے ساتھ حاصل ہے لحاظ کرکے کم ازکم ایذا تو نہ پہنچاؤ اور اس حق قرابت کے باعث میری طرف رخ کرو اور توجہ سے میری بات سنو، اگر تم میری مدد نہیں کرتے تو کم ازکم ایذا تو نہ پہنچاؤ، اور جب کہ میں تم سے کسی مالی صلہ اور معاوضہ کا طالب بھی نہیں تو یہ میرا انتہائی اخلاص ہے اور تعلق قرابت اس کا باعث ہونا چاہئے کہ میری بات پر غور کرو، اور اس کو قبول کرو، حق نبوت نہیں مانتے تو حق کا لحاظ کرلو، جو عقل اور فطرت کا تقاضا ہے، اور میں تم کو پھر یہی بات ہمدردی اور نصیحت کے طور پر کہتا ہوں جو شخص بھی کوئی نیکی کا کام کرے گا، اللہ رب العزت کا یہ پیغام ہے کہ ہم اس کے واسطے اس کی نیکی میں اجر وثواب کا اضافہ کرتے ہیں، بیشک اللہ تو بہت ہی درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے کہ اگر اعمال میں کسی طرح کی تقصیر وکوتاہی واقع ہوجائے تو درگذر فرماتا ہے، اور جو کچھ بندہ نیکی کرتا ہے اس کو وہ سراہتا ہے وہ قدردان ہے اہل ایمان وعمل صالح کو انعامات واجور سے محروم نہیں رکھتا ، الاالمودۃ فی القربی کی تفسیر : آنحضرت ﷺ کا کفار مکہ کو یہ خطاب بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا تھا (آیت) یا قوم لم تؤذوننی وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم “۔ یعنی اے میری قوم تم مجھے کیوں ستاتے ہو، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بھیجا ہوا تو اس طرح آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا اے میری قوم میں تم سے اس دعوت وتبلیغ اور پیغام نصیحت پر کوئی معاوضہ تو نہیں چاہتا البتہ صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم سے جو قرابت و رشتہ داری ہے، اس کے باعث میری طرف کچھ رخ کرو، اور میری بات سنو، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ، اگر ایمان نہیں لاتے تو میرے حال پر مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں خدا کا یہ پیغام دوسروں تک پہنچا دوں۔ قرابت کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم میری اطاعت کرتے، اگر اطاعت نہیں کی تو ایذاء رسانی سے تو باز آجاؤ، آخر میں تمہارا عزیز و قریب ہوں کوئی دشمن تو نہیں، اس لیے میری بات سنو، اور اس پر توجہ کرو ، قوت نیکی نہ داری بدمکن۔ بروجود خود ستم بیحد مکن : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں (آیت) ” الا المودۃ فی القربی “۔ کے یہی معنی منقول ہیں۔ قریش مکہ کی طرف سے جب ایذاؤں اور رکاوٹوں کی یہ نوبت آگئی کہ آپ ﷺ ظاہر اسباب میں پیغام خداوندی لوگوں تک پہنچانے پر قادر نہ رہے تو آپ ﷺ اسی کیفیت کو اس طرح فرمایا کرتے، منعونی ان ابلغ کلام ربی۔ مجھے تو قریش کے لوگوں نے اس بات سے مجبور کر رکھا ہے کہ میں اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، تو اس صورت حال میں اس آیت کا نزول ہوا جس میں آپ ﷺ نے حق قرابت کا احساس دلاتے ہوئے یہی چاہا کہ کلام رب اور پیغام خدا وندی پہنچانے میں تم میری دشمنی سے باز آجاؤ، ابن جریر طبری (رح) حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بغوی (رح) امام رازی (رح) اور حافظ جلال الدین سیوطی (رح) غرض جملہ اکابرائمہ مفسرین اور امت کے تمام محدثین بالعموم یہی مطلب بیان کرتے ہیں، عامر شعبی ضحاک علی بن ابی طلحہ عوفی اور یوسف بن مہران (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی معنی بیان کیے ہیں، ایمہ مفسرین میں سے مجاہد (رح) قتادہ (رح) اور عکرمہ (رح) نے اسی کو اختیار کیا، (تفسیرابن کثیر جلدی 4) سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا، میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ کو فرمایا۔ (آیت ) ” لا اسئلکم علیہ اجرا الا ان لا تؤذونی نفسی المودۃ فی القربی لقرابتی منکم وتحفظوا القرابۃ التی بینی وبینکم “۔ یعنی میں تم سے کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تم مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ، میری اس قرابت کی وجہ سے جو تم سے ہے اور تم اس قرابت کا لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے، (تفسیر ابن کثیر جلدرابع) امام بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ (ایک زمانہ تھا کہ) لوگ کثرت سے اس آیت کے بارے میں ہم سے دریافت کرتے اور حجت بازی کرتے، ہم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی خدمت میں لکھ کر بھیجا کہ یہ صورت حال ہے آپ آیت کی مراد بیان فرمائیں تو ابن عباس ؓ نے اس کی مراد میں یہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا نسب قریش کی تمام شاخوں سے ملتا تھا کوئی شاخ ایسی نہ تھی کہ جس سے رسول اللہ ﷺ کا نسب نہ ملتا ہو، آپ ﷺ کی دعوت وتبلیغ پر جو قریش مکہ نے انکار کیا آپ کو جھٹلایا عداوت اور ستانے پر تل گئے تو اس پر آپ نے فرمایا اے لوگو ! میں تم سے کچھ نہیں طلب کرتا بجز (سودۃ فی القر بی) اس لیے تم میری قرابت کا لحاظ کرو، اور مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ اور قدرت دو کہ میں اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، (تفسیر روح المعانی جلد 25) الغرض اس تفسیر سے یہ ظاہر ہوگیا کہ (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ میں استثناء استثنا متصل نہیں بلکہ استثناء منقطع ہے، استثناء متصل ہونے کی صورت میں تو مراد میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت ومعاوضہ نہیں مانگتا بجز اس معاوضہ محبت و قرابت کے یعنی تبلیغ رسالت کے معاوضہ سے مجھ کو بس یہ معاوضہ محبت قرابت مطلوب ہے مگر اس کے برعکس روایات مذکورہ کی بناپریہ استثناء منقطع ہوگا جہاں مستثنی مستثنی منہ کی جنس سے نہیں ہوتا، اس کی مثال ایسی ہے (آیت ) ” لایذوقون فیھابردا ولا شرابا الا حمیما وغساقا “۔ میں جس طرح استثناء (آیت ) ” بردا وشرابا “۔ سے۔” حمیما وغساقا “۔ کا کیا گیا کیونکہ یہ ماقبل کی جنس سے نہیں ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوزخی نہیں چکھ سکیں گے کوئی ٹھنڈک اور نہ ہی کوئی پینے کی چیز مگر کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (زخموں کی) تو یہ استثناء منقطع ہے، اسی طرح (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ استثناء منقطع ہے اس لیے کہ ” مودت فی القربی “۔ جنس اجرت سے نہیں ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ (آیت ) ” مودت فی القربی “ تبلیغ رسالت کا کسی قسم کا معاوضہ ہے نہیں کہلایا جاسکتا۔ الفاظ آیت کی دلالت اسی مراد کو متعین کررہی ہے تمام اہل سنت حضرات اور ائمہ مفسرین نے اسی کو اختیار کیا، جیسا کہ بیان کیا گیا، نیز آیت میں لفظ (آیت ) ” فی القربی “۔ بھی اسی معنی کی تائید کررہا ہے، جس کا لفظی ترجمہ یہی ہے کہ مگر وہ محبت جو قرابت داری میں ہو یوں نہیں فرمایا گیا، (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “۔ اگر یہ عنوان ہوتا تو احتمال ہوسکتا تھا کہ اس کی یہ تاویل کی جاسکے، اہل قرابت کی محبت کا اگرچہ اس تقدیر پر یہ معنی بھی لفظی دلالت سے بعید ہوتے تو (آیت ) ” فی القربی “۔ کے عنوان نے اس احتمال بعید کو بھی ختم کرڈالا، اور وہی مراد متعین ہوگئی جو روایات مذکورہ کے حوالہ سے ذکر کی گئی، حضرت شاہ ولی اللہ الدھلوی قدس اللہ سرہ اپنے ترجمہ قرآن فتح الرحمن میں لکھتے ہیں ، ” بگونمی طلبم از شمابر تبلیغ قرآن ہیچ مزدے لیکن باید کہ پیش گیرید دوستی درمیان خویشاونداں “۔ اور پھر اس پر حاشیہ میں یہ فرماتے ہیں یعنی بامن صلہ رحمی کنید ایذا نہ رسانید کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کرو اور ایذاء نہ پہنچاؤ، اور حضرت شاہ عبدالقادررحمۃ اللہ علیہ اپنے ترجمہ قرآن میں لکھتے ہیں ” تو کہہ میں مانگتا نہیں اس پر کچھ نیگ (صلہ) مگر دوستی چاہئے ناتے ہیں “۔ اور حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں یعنی قرآن پہنچانے پر نیگ نہیں مانگتا مگر قرابت کی دوستی “۔ یعنی میں تمہارا بھائی ہوں ذات کا مجھ سے بدہی نہ کرو۔ اسی طرح حضرت شاہ رفیع الدین صاحب (رح) بھی اپنے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کچھ بدلہ مگر دوستی بیچ قرابت کے۔ ا حاشیہ ‘(من افاضات حضرت الوالد المحترم مولانا الشیخ محمد ادریس کاندھلوی (رح) واسعۃ حسب ما ضبطت ھذہ الکمات حین ما کنت اسمع منہ تفسیر ھذہ الآیۃ المبارکہ اعلی اللہ تعالیٰ درجاتہ فی العلیین واسبغ علیہ من نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ آمین یا رب العلمین “۔ فرقہ شیعہ کی اختراع کردہ تفسیر : فرقہ شیعہ اس آیت کی یہ مشہور ومعروف اور جملہ ائمہ مفسرین کی اختیار کردہ تفسیر کو جو الفاظ کی دلالت سے پوری پوری مطابقت رکھتی ہے، چھوڑ کر جدا گانہ تفسیر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ سے رسول ﷺ کے قرابت والوں سے محبت کرنا مراد ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں سے یہ کہہ دو کہ تم سے اپنی تعلیم و دعوت اور تبلیغ پر کوئی اجرت ومعاوضہ نہیں مانگتا البتہ صرف یہ مانگتا ہوں کہ میری قرابت والوں سے محبت کرو اور میری قربت والے صرف چار ہیں، فاطمہ، ؓ ، علی ؓ حسن ؓ ، حسین ؓ ، یہ عجیب فلسفہ ہے کہ قرابت کے تمام رشتوں کو خارج قرار دے دیا جائے حتی کی آپ ﷺ کی تین دیگر صاحبزادیاں بھی آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ اور ان کی اولاد بھی قرابت داروں کی فہرست سے خارج ہوں، بہرکیف شیعہ فرقہ کی تفسیر رو سے اجرت رسالت قرابت داروں کی اور ان میں سے بھی صرف چار کی محبت ہے، پھر یہ کہ قرات داروں کی محبت بھی محض محبت کے معنی کے لحاظ سے نہیں بلکہ یہ کہ میرے بعد ان کو اور ان کی اولاد کو خلیفہ اور بادشاہ بناؤ، جس کا حاصل دنیا یہ سمجھ سکتی ہے کہ آپ یہ فرمانا چاہتے ہیں میری محنت وجانفشانی سے جو غلبہ واقتدار حاصل ہو یعنی یہ حکومت اس طرح مجھ کو مل جائے وہ نسل میری اولاد ہی میں رہے نسل میری اولاد ہی میں رہے باہر جانے نہ پائے، اہل حق کے قول اور شیعہ فرقہ کی تفسیر میں فرق ظاہر ہے۔ (1) پہلے قول کے لحاظ سے القربی کا مفہوم قرابت ہے، جو لغت وضع کے مطابق ہے اور دوسرے قول کی رد سے قربی کے معنی قرابت داروں کے ہوئے، حالانکہ اس معنی کے واسطے اہل عرب لفظ (آیت ) ” القرباء “۔ جو جمع قریب ہے استعمال کرتے ہیں، جیسے کریم کی جمع ” کر ما “۔ لفظ القربی تو اپنی وضع عربیہ کی رو سے یہ مفہوم نہیں ادا کرتا۔ (2) اس کے علاوہ اصل قابل غور یہ امر ہے کہ آیت مبارکہ کا یہ مطلب تجویز کرنا سراسر شان نبوت اور منصب رسالت کے خلاف ہے بلکہ مقام نبوت کے تقدس و عظمت پر ایک بہتان عظیم ہے، یہ شیوہ تو اہل دنیا اور خود غرض قسم کے لوگوں کا ہوتا ہے کہ کوئی کام کریں تو یہ چاہیں کہ اس کا فائدہ ان کی اولاد کو پہنچے، حالانکہ اس قسم کے ادہام وشکوک سے تو انبیاء (علیہم السلام) کی ذات پاک کو پاک رکھنے کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کا کوئی ترکہ نہیں ہوتا، اور ان کی اولادو رثہ ان کے مال کے وارث نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد حتی کہ آزاد کردہ غلاموں پر صدقات حرام کردئیے گئے، بہرکیف اگر یہ بات تصور کی جائے جو شیعہ کہتے ہیں تو لامحالہ پر ایک قسم کا معاوضہ ہوگا، خدمات نبوت کے انجام دینے پر جو قرآن کریم اور انبیاء (علیہم السلام) کے طرز کے سراسر منافی ہوگا، بار بار قرآن کریم نے انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت وتبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” لآاسئلکم علیہ اجرا “۔ کہ میں اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا، اور خود آنحضرت ﷺ کے اس اعلان کے صریح خلاف ہوگا جو قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر ذکر فرمایا۔ مثلا : (1) قل لآ اسئلکم علیہ اجرا ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (سورۂ انعام ) (2) وماتسئلھم علیہ من اجر ان ھو الا ذکرللعلمین “۔ (سورۂ یوسف ) (3) ام تسئلھم خرجا فخراج ربک خیروھو خیرالرازقین (ال مومن ون ) (4) قل مآ اسئلکم علیہ من اجر الا من شآء ان یخذ الی ربہ سبیلا (فرقان ) (5) قل ما سالتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ وھو علی کل شیء شھید (سورۂ سبا) (6) قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من التکلفین ان ھو الا ذکر للعلمین (سورۂ ) (7) ام تسئلھم اجر فھم من مغرم مثقلون (سورۂ طور) تو ان تمام آیات کے ہوتے ہوئے ایسا کوئی مطلب اختراع کرنا جس سے منصب رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر اجرت ونفع کا طلب کرنا لازم آتا ہو، کیونکر صحیح ہوسکتا ہے، اگر بالفرض ایسا کوئی مضمون تصور کیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ آنحضرت ﷺ کا درجہ دوسرے انبیاء سے گھٹ جائے، کیونکہ کسی اور پیغمبر نے تو اداء رسالت پر اس چیز کا مطالبہ نہیں کیا کہ اس کی اولاد اور قرابت داروں سے اس قسم کے منافع اور فوائد پہنچانے کا معاملہ کیا جائے ، (3) ۔ پھر یہ کہ قرآن نے انبیاء (علیہم السلام) کے واجب الابتاع ہونے کی دلیل بھی بیان کی ہے کہ وہ طالب اجرت نہیں ہوتے جیسا کہ سورة یسین (آیت ) ” اتبعوا من لایسئلکم اجرا وھم مھتدون “۔ یعنی ان لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ ہدایت پر ہیں تو آیت (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “۔ کا یہ مطلب تجویز کرنا جس سے آنحضرت ﷺ کا طالب اجرت ہونا لازم آتا ہے، یہ آپ ﷺ کے لازم الاتباع ہونے کو ساقط کردے گا۔ العیاذ باللہ۔ (4) پھر یہ کہ سورة شوری بالاتفاق مکی سورت ہے، اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علی ؓ سے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد ہوا، اور حضرت حسن بن علی ؓ غزوۂ بدر کے بعد 3 ھ میں پیدا ہوئے اور حضرت حسین ؓ 4 ھ میں پیدا ہوئے اور جب یہ سورت مکی ہے تو لامحالہ یہ آیت حسن ؓ و حسین ؓ کی پیدائش سے کئی سال قبل نازل ہوچکی تھی، تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ اس آیت کی تفسیر ایسی قرابت سے فرمائیں جس کا اس وقت کہیں وجود ہی نہیں، بالخصوص اس صورت میں کہ القربی معرف باللام ہے اور معرفہ وہاں لایا جاتا ہے، جہاں مخاطبین کو معلوم اور ان کے نزدیک معروف ہو اور جو پیدا بھی نہیں وہ مخاطبین کو معروف ومعلوم کیسے ہوسکتا ہے، زائد سے زائد یہ ممکن ہے کہ آیت سے حضرت فاطمہ ؓ وحضرت علی ؓ کی محبت کا وجوب ثابت کیا جائے تو اس سے اہل سنت کب منکر ہیں، اہل سنت کے نزدیک تو اہل بیت کی محبت جزو ایمان ہے البتہ وجوب محبت سے دوسروں کے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہ ؓ کا بھی امام ہونا لازم آے گا، پھر یہ بھی ضروری ہوگا کہ نصوص قرآن و حدیث میں جن لوگوں کے ساتھ محبت کا حکم دیا گیا مثلا علماء وصلحاء تو ان کی بھی امامت ضروری ہو، اور ان کو بھی امام معصوم کے درجہ میں قرار دیا جائے اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب فہم اس امر کا جواز تصور نہیں کرسکتا ، (5) نیز یہ کہ حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ہے (آیت ) ” الاالمودۃ فی القربی “۔ تو اگر کسی تاویل کے ذریعے القربی سے (آیت ) ” ذوی القربی “۔ یعنی قرابت والے مراد لیے جائیں تو پھر کلام خداوندی میں للقربی یعنی قرابت داروں کے واسطے، نہ کہ (آیت ) ” فی القربی “۔ جیسے کہ آیت مبارکہ میں ہے، اور قرآن کریم میں جہاں بھی کہیں قرابت داروں کا ذکر ہے وہاں لفظ (آیت ) ” ذوی القربی “۔ کا لایا گیا، چناچہ ارشاد ہے ، (آیت ) ” واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی “۔ اور آیت ”۔ ما افآء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی “۔ اور اسی طرح (آیت ) ” فات القربی حقہ “۔ اور (آیت ) ” اتی المال علی حبہ ذوی القربی “۔ اغرض جہاں بھی کہیں قرآن کریم کو قرابت داروں کا ذکر مقصود تھا وہاں لفظ ذوی القربی آیا ہے نہ کہ فی القربی، تو یہ بات واضح ہے کہ (آیت ) ” فی القربی “۔ کا مفہوم وہی ہے جو اہل حق نے بیان کیا، اور تمام ائمہ مفسرین سلف اور حضرات صحابہ ؓ سے نقل کیا گیا، وہ تفسیر جمہور مفسرین کے نزدیک معتبر ہے۔ البتہ (آیت ) ” فی القربی “۔ کی ایک اور تفسیر حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ نے بروایت قتادہ ؓ حسن بصریرحمۃ اللہ علیہ سے یہ نقل کی ہے، المودۃ فی القربی، اے الاان تو ادواللہ تعالیٰ ”۔ وان تقربوا “۔ الیہ بطاعتہ “۔ یعنی میں تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بجز اس کے کہ تم اللہ سے محبت کا معاملہ کرو، اور اس کا تقرب حاصل کرو، طاعت و بندگی کے ذریعہ سے گویا یہ تشریح و تفسیر ہے، (آیت ) ” بالتی تقربکم عندنا زلفی الا من امن وعمل صالحا “۔ کی مراد یہ کہ بس تم سے میں صرف اسی چیز کا طالب ہوں جو تم کو اللہ سے قریب کردے، اور وہ اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ ذوی القربی کی محبت اہل سنت کے نزدیک ایمان کی بنیاد ہے : اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ آل بیت رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کی اساس اور روح ہے، حضرت علی ؓ بن ابی طالب حضرت سیدہ ؓ ، حضرت حسن ؓ ، حضرت حسین ؓ ، اور جملہ اہل بیت کی محبت فرض و لازم ہے، اور اہل بیت میں آپ ﷺ کے عم محترم حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب اور آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دیگر اقارب نبوی جو مشرف باسلام ہوئے سب داخل ہیں، ہر شخص کی محبت و عظمت اس کے مرتبے کے بقدر لازم ہے تو سوال طلب امر یہ ہے کہ اگر اس آیت کے باعث شیعوں کے نزدیک محبت کے لیے اطاعت لازم ہے تو بلاتخصیص تمام اقارب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہونی چاہئے، اور حضرت فاطمہ ؓ کے علاوہ دیگر تین صاحبزادیاں حضرت زینب ؓ ، حضرت رقیہ ؓ ، اور حضرت ام کلثوم ؓ کی اطاعت بھی فرض ہونی چاہئے، اور ان کے اصول سے حضرت فاطمہ ؓ کو امام بھی ہونا چاہئے اور جب فاطمہ ؓ کی امامت ضروری ہوئی تو دیگر صاحبزادیوں کی بھی امامت کا درجہ فرض ہونا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ وہ اس کے قائل نہیں، بہرحال یہ آیت اگر اہل بیت کی محبت کو لازم کرتی ہے تو اہل سنت خود اس کے قائل ہیں لہذا اہل تشیع کو اہل سنت پر اعتراض کا کوئی حق نہیں اگر پھر بھی اعتراض کریں تو یہ اعتراض کا کوئی حق نہ ہوگا بلکہ بہتان ہوگا اور اگر محبت سے اطاعت کے لزوم کا دعوی کرتے ہیں تو ہم ان سے یہ پوچھیں گے کہ پھر جملہ اہل بیت کی اطاعت کی فرضیت کے کیوں قائل نہیں، اور اس کا جواب دو کہ بعض اہل بیت کی محبت کو فرض کہتے ہو، اور بعض کی محبت سے گریز بلکہ نفرت کرتے ہو، اور اس جواب دو کہ حضرت علی ؓ تو ایک صاحبزادی سے شرف زوجیت کے باعث امام معصوم اور خلیفہ بلافصل ہوئے لیکن حضرت عثمان ذوالنورین ؓ دو صاحبزادیوں سے شرف زوجیت رکھنے کے باوجود نہ امام ہوئے نہ معصوم اور نہ مستحق محبت ہوئے بلکہ ان کا بغض ونفرت تشیع کی حقیقت اور روح با ؟ ظاہر ہے کہ اس کا کوئی جواب قیامت تک نہیں دیا جاسکتا، اور اس وجہ تفریق پر بجا طور پر یہ مطالبہ کیا جاسکتا ہے، (آیت) ” فاتوا برھانکم ان کنتم صدقین “۔ اہل بیت کے بارے میں وہ تمام احادیث ملاحظہ فرمائی جائیں جو محدثین نے باب فضائل اہل بیت میں بیان فرمائیں۔
Top