Maarif-ul-Quran - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
بیان اوصاف اہل ایمان وتقوی و حسن اخلاق معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والذین یجتنبون کبآئر الاثم ....... الی ....... لمن عزم الامور “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دنیوی زندگی کا فانی ہونا بیان فرمایا گیا تھا اور یہ کہ دنیا کی تمام نعمتیں اور لذتیں درحقیقت ایک دھوکہ ہے اس میں پڑکر انسان کو آخرت سے غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور خدا کے برگزیدہ بندوں کے اوصاف بیان کیے جارہے ہیں ایسے اوصاف جن کے باعث ایک طرف ان کی زندگی کا وہ رخ جو اللہ کے ساتھ ہے وہ بھی نہایت اعلی اور اکمل معلوم ہوتا ہے دوسری طرف حسن اخلاق اور معاشرت کی عظمت و برتری ظاہرہورہی ہے، فرمایا اور وہ لوگ جو ایمان و توکل کی صفت سے متصف ہونے کے ساتھ پرہیز کرتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے اور جب ان کو غصہ آئے تو وہ درگذر کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی فرمانبرداری کی اور نماز کی پابندی کی اور ان کے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں، اور جب ان پر ظلم و زیادتی وہ صرف بالہ ہی لیتے ہیں، نہ کہ جذبہ انتقام میں حد سے بڑھ جائیں، اور ظاہر ہے کہ برائی کا بدلہ ویسا ہی برائی کا معاملہ کرلینا ہے جیسا کہ کہا گیا، لیکن اگر کوئی شخص معاف کردے اور باہمی معاملہ درست کرلے۔ بجائے انتقام لینے کے تو بیشک اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اور جو شخص بدلہ لے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد نہ کوئی زیادتی کرے بدلہ لیتے ہیں تو بیشک ایسے لوگوں پر کسی قسم کا مؤاخذہ نہیں، بیشک مؤاخذہ ان لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی اور تکبر کرتے ہیں تو یقیناً ایسے لوگوں کے لیے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے، اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے تو بیشک یہ کام بڑی ہی پختگی اور ہمت کے کاموں میں سے ہے، تو جو لوگ ان اوصاف کے ساتھ متصف ہوں گے خدا کے یہاں ان کا بہت بلند مقام ہوگا ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے اہل ایمان کے جو اوصاف حمیدہ بیان فرمائے ان میں عقائد، فرائض، عبادات، معاملات ومعاشرت اور محاسن اخلاق کی تمام عظمتوں اور خوبیوں کو جمع فرمادیا، اور ان اوصاف کے ضمن میں یہ بات ظاہر فرمادی گئی کہ ایمان اور کمالات ایمان ہی دراصل وہ خوبیاں ہیں جن کی بدولت آخرت کی سعادت و فلاح کے ساتھ معاشرتی فلاح اور بلندیاں بھی انسان کو حاصل ہوسکتی ہیں، ظالم سے ظلم کا بدلہ لینا درست ہے لیکن زیادتی اور تعدہی کسی طرح جائز نہیں اور اگر صبر وعفو سے کام لے تو بہت ہی بہتر ہے، جیسے کہ آنحضرت ﷺ کے اسوۂ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ فتح مکہ کے بعد تمام سرداران قریش کو جو ہمیشہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کو ستانے میں پیش پیش رہے، مسلمانوں سے مقابلہ کے لیے میدان کا رزار میں آتے رہے عام معافی کا اعلان فرما دیا اور جس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے ظالم بھائیوں کو باوجود قدرت انتقام کے یہ کہہ کر معاف کرتے رہے، (آیت ) ” لا تثریب علیکم الیوم “۔ آج کے دن تم پر کوئی ملامت ومؤاخذہ نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ بھی ان سب کو اعلان عفو و درگذر سے نوازتے رہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے فضیل بن عیاض (رح) کے ایک خادم عبدالصمد بن یزید (رح) سے نقل کیا کہ میں نے فضیل بن عیاض (رح) سے سنا وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہارے پاس کوئی شخص کسی کی شکایت لے کر آئے تو تم یہ کہہ دیا کرو اے میرے بھائی اس کو معاف کردو، اگر وہ یہ کہے کہ میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ میں اس کو معاف کروں تو پھر اس کو یہ کہو کہ اگر بدلہ ہی لینا ہے تو اس طرح لو جیسے اللہ نے اس کو اجازت دی ، ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص ابوبکر صدیق ؓ کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ اور ان کی شان میں توہین کررہا تھا، آنحضرت ﷺ وہیں تشریف فرما تھے اور یہ باتیں سن کر تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے، جب وہ شخص بہت ہی زیادتی کرنے لگا اور حد سے بڑھا تو ابوبکر ؓ نے اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر آنحضرت ﷺ کو ناگواری ہوئی اور مجلس سے اٹھ کر تشریف لے جانے لگے، ابوبکر ؓ فورا ہی دوڑے اور آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ وہ شخص مجھ کو گالیاں دے رہا تھا اور آپ ﷺ بیٹھے رہے، لیکن جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ﷺ ناگواری سے اٹھ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اے ابوبکر ؓ جب تک تم خاموش رہے تو ایک فرشتہ تمہارے ساتھ تھا جو تمہاری بات کا جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم اس پر غضبناک ہوئے تو فرشتہ اٹھ کر چلا گیا، اور تمہارے درمیان شیطان آگیا، اور ظاہر ہے کہ میں ایسا نہیں تھا کہ شیطان کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھا رہوں اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ تین چیزیں برحق ہیں ایک یہ کہ جس کسی پر بھی ظلم کیا جائے گا پھر اس سے چشم پوشی اور درگذر کرے محض اللہ کے لیے تو اللہ اس کو عزت وسربلندی عطا فرمائے گا، اور اسکی مدد فرمائے گا، اور جو شخص بھی عطا و بخشش کا دروازہ کھولے گا تو اس پر اللہ کی طرف سے برکت وفراخی کا دروازہ کھلے گا اور جو شخص سوال اور بھیک مانگنے کا دروازہ کھولے گا تو اس کے واسطے اللہ کی طرف سے قلت وتنگی ہی کا دروازہ کھلے گا۔ حلم و درگذر اور صبر وعفو انسانی کمالات میں عظیم ترین کمال ہے : حضرت شاہ والی اللہ قدس اللہ سرۂ فرماتے ہیں کہ ان آیات میں حق تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ اور مہاجرین اولین کے اوصاف واحوال کو صراحۃ اور حضرات خلفاء راشدین ؓ کی خصوصیات کو اشارۃ ذکر فرمادیا ہے، ابتداء میں مہاجرین اولین کے وصف ایمان اور توکل کو بیان فرمایا کہ نہایت ہی عسرت تنگی میں ہجرت کی اور محض اسلام کی خاطر اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت کی وجہ سے اپنا وطن گھر بار چھوڑا اپنے عزیز و اقرباء حتی کے اہل و عیال، تجارت، مال و دولت اور جائیداد سب کچھ اللہ کے لیے چھوڑا شدائد کا مقابلہ کرتے رہے اس وصف کے بعد (آیت ) ” الذین یجتنبون “ ، میں وصف عفت وعدل کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ تہذیب نفس، قوت بہیمیہ (شہویہ) اور قوت سبعیہ (قہر وغضب) کو عقل کے تابع کیے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، اس آیت کے عموم میں انصار اور ان کے اتباع بھی شامل ہیں، اور (آیت ) ” والذین استجابوا لربھم “۔ خصوصیت کے ساتھ صدیق اکبر ؓ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں وہ سب سے مقدم اور سب کے پیشوا ثابت ہوئے اجابت حق تسلیم وانقیاد اور اقامت صلوۃ آپ کا معروف اور نمایاں وصف تھا اور اقامت صلوۃ کا یہ نمایاں وصف اس امر کا باعث بنا کر آپ ﷺ نے مرض والوفات میں انہی کو اپنی جگہ امامت کے لیے مامور فرمایا اگرچہ حضرت عائشہ ؓ بار بار اس کو ٹلاتی رہیں، لیکن آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے ” مروا ابابکر لیصل بالناس “۔ یعنی کہو ابوبکر ؓ کو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، اور لفظ (آیت ) ” امرھم شوری بینھم “۔ میں حضرت عمر فاروق ؓ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آپ ؓ کا معروف وصف شوری تھا آپ ؓ اپنے زمانہ خلافت میں کوئی امر بدون فقہاء صحابہ ؓ کے مشورہ کے نافذ نہیں کیا کرتے تھے اسی وجہ سے ملت اسلامیہ کا عظیم ترین سرمایہ وہ ذخیرہ اجماعیات ہے یعنی وہ امور ہیں جن پر فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں اجماع ہوچکا تھا، (آیت ) ” واعلموا انما غنتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ فاروق اعظم ؓ کے اجماعیات اللہ کے نزدیک صحیح اور پسندیدہ بلکہ قابل مدح وتحسین ہیں اور یہ ایسا وصف ہے جس کو حق تعالیٰ نے بطور مدح ذکر فرمایا، اور (آیت ) ” مما رزقنھم ینفقون “۔ میں حضرت عثمان ؓ کی طرف اشارہ ہے یہی ان کا امتیازی وصف تھا اور اسی انفاق فی سبیل اللہ کے باعث بشارت عظیم سے فائز ہوئے۔ اور (آیت ) ” والذین اذا اصابھم البغی “۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر منطبق ہے، کیونکہ آپ ؓ نے اپنے عہدخلافت میں باغیوں سے بغاوت پر جہاد و قتال کیا اور آیت ” سیءۃ سیءۃ مثلھا “۔ سے انتقام کی اجازت دی گئی، مگر عفو اور اصلاح وچشم پوشی اور درگزر کو افضل اور بہتر فرمایا گیا عجب نہیں کہ اس لفظ (آیت ) ” واصلح “۔ سے حضرت حسن ؓ کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ انہوں نے امیر معاویہ ؓ کے ساتھ صلح فرمائی، اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسن ؓ کے متعلق ارشاد فرمایا تھا، ان ابنی ھذا سید ویصلح اللہ بہ بین فئتین عظیمتین “۔ یعنی یہ میرا فرزند سردار ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا اور چونکہ لفظ (آیت ) ” واصلح “۔ مسلمانوں کے درمیان اتفاق واقع ہونے اور باہمی نزاع وتفرقہ اٹھ جانے پر دلالت کرتا ہے اس لیے اس میں ایک لطیف اشارہ حضرت معاویہ ؓ کی امارت و حکومت کی طرف بھی ہے کیونکہ (آیت ) ” واصلح “۔ کا مقام مدح میں ذکر کرنا اس کی دلیل ہے کہ وہ صلح عند اللہ صحیح اور معتبر ہوگی تو اس طرح اس مصالحت کے نص قرآنی کے اشارہ سے حق ہونا معلوم ہوا ہے، اور (آیت ) ” انما السبیل علی الذین یظلمون “۔ سے اشارہ امراء بنی امیہ کی جانب ہے جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ میری امت کی ہلاکت چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہوگی، اور اخیر میں (آیت ) ” ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور “۔ سے ایسے ثابت قدم علماء ربانین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے امراء و سلاطین کے جور وظلم پر صبر کیا، اور اس اندیشہ سے کہ امت انتشار وافتراق کا شکار نہ ہوجائے، مسلمانوں کو امیر وقت کے مقابلہ میں تلوار اٹھانے سے منع کیا اور باوجود کراہت کے اطاعت قبول کی، اور اس گروہ کے سرخیل اور امام علی بن الحسین ؓ تھے وعن آباۂ الکرام (حضرات قارئین تفصیل کے لیے ازالۃ الخفاء از ص 592 کی مراجعت فرمائیں )
Top