Maarif-ul-Quran - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔
بیان انعام براہل تقوی واحاطہ علم خداوندی باحوال فریقین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یخشون ربھم .......... الی ........... صراط مستقیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں منکرین ومجرمین پر عذاب خداوندی کا بیان تھا اور یہ کہ روز قیامت جب کفار، عذاب خداوندی کا مشاہدہ کریں گے تو ان پر کس طرح حسرت وملال ہوگا اب ان آیات میں اہل ایمان وتقوی اور رب العالمین سے خشیت رکھنے والوں کی جزاء اور انعام کا بیان ہے ارشاد فرمایا۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں غیب کی حالت میں ان کے واسطے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے کہ جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے جب کہ وہ عالم آخرت سے دور تھے جنت و جہنم بھی نظروں سے اوجھل تھی پھر بھی ایمان وتقوی اختیار کیا بلاشبہ وہ انعامات اور اعزات کے مستحق ہیں یہی خشیت بحالت غیب “ کام آنے والی چیز ہے ورنہ خدا کی بارگاہ میں حاضری پر اور جنت و جہنم کا جب انسان مشاہدہ کرنے لگے تو ہر ایک ہی ڈرے گا اور عذاب جہنم سے کانپے گا لیکن ظاہر ہے کہ اس وقت کا ڈر اور خشیت کسی صورت میں بھی کام نہ آئے گی اس وقت یہ فرمان خداوندی جاری ہوگا اور اے لوگو ! تم خواہ کو جاننے والا ہے اور سوچنا چاہئے کیا وہ پروردگار نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا وہ تو بہت ہی لطیف باریک بین اور مخلوقات کے احوال سے پورا باخبر ہے اس لیے کہ وہ مخلوقات کا خالق ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق کو اپنی مخلوق کا علم نہ ہو دلی خیالات بھی مخلوق ہیں گو وہ دل میں چھپے ہوئے ہیں مگر وہ تو چونکہ لطیف ہے اور لطافت دلیل ہے علم وانکشاف کی لہذا وہ دل کے خیالات سے بھی باخبر ہے حکماء نے متعدد دلائل سے ثابت کیا ہے اور یہ بات غور کرنے پر سمجھ میں بھی آتی ہے کہ جسمانیت ایک حجاب ہے بہت سی چیزوں کے علم وادراک سے یہی جسمانیت وکثافت مانع بنتی ہے اسی لیے ملائکہ چونکہ اجسام نوریہ اور لطیف ہیں اور ان میں روحانیت ولطافت ہے انکے بعد جنات جو مخلوق ناری ہیں اور نار میں بھی لطافت ہے گونور سے کم ہو اس وجہ سے ملائکہ اور جن ان چیزوں کا ادراک کرلیتے ہیں جو ہمارے علم اور حواس سے بعید ہوتی ہیں اسی پر خواب کو بھی محمول کرلیا جائے کہ اس میں انسان بسا اوقات وہ چیزیں دیکھ لیتا ہے جو بیداری میں نہیں دیکھ سکتا اسی بناء پر حضرات متکلمین نے بحالت خواب جنت و جہنم کو دیکھنا اور دیدار خداوندی کو تسلیم کیا ہے کیونکہ بحالت خواب جسمانی حجابات کمزور ہوجاتے ہیں اور مدرکات حسیہ کے بجائے قلب کے مدرکات کام کرنے لگتے ہیں تو جب نفس خواب میں انسان کو ان باتوں کا انکشاف ہوجاتا ہے جن کا بحالت بیداری مشاہدہ نہیں کرسکتا تو ظاہر ہے کہ قیامت کے روز جب عالم مادیت سے بالکل ہی منقطع ہوچکا ہوگا اور مادی حجابات مرتفع ہوچکے ہوں گے نہ معلوم وہ کیا کچھ دیکھے گا جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا تو انسان جب تک دنیا میں ہے گویا وہ عالم غیب میں ہے اور احوال آخرت میں سے اس کے حواس بیخبر ہیں تو اس عالم میں خدا سے خوف و خشیت ایمان ہے ورنہ آخرت میں تو سب کچھ نظر آنے لگے گا اور ہر ایک ہی خدا کی عظمت وکبریائی سے کانپتا ہوگا۔ وہی پروردگار ہے جس نے تمہارے واسطے زمین کو مسخر بنا دیا کہ اس پر جس طرح چاہو تصرف کرو چلو پھرو مکانات کارخانے تعمیر کرو یا نزم بنا دیا جس پر تم بیٹھ سکتے ہو اس کو کھودسکتے ہو ایسا سخت سنگ خارا نہیں کہ انسان سے نہ بیٹھا جائے نہ اس پر چلا جائے اور نہ کھودا جاسکے پھر عجیب قدرت ہے کہ اس نرمی کے باوجود ناخن سے کرید لو اس قدر مضبوط اور قوی کہ بڑے سے بڑے وزن سے نہ دبے اور نہ پھٹے تو چلو اے لوگو ! تم اس کے کاندھوں یعنی راستوں میں۔ حاشیہ (” مناکب “ کا ترجمہ راستوں سے کیا چلنے کی مناسبت سے مقصود تو یہ ہے کہ زمین کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخرکئے جانے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے، قتادہ (رح) ضحاک (رح) اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمین کے کاندھے پہاڑ اور ٹیلے ہیں انکی بلندی کی وجہ سے انکو مناکب الارض کہا جاتا ہے۔ 12) اور کھاؤ خدا کے رزق سے جو اس نے زمین سے پیدا کیا اور یہ رزق اور جملہ نعمتوں کو کھا پی کر خدا کا شکر بھی ادا کرو اور یہ یاد رکھو کہ اسی کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر لوٹنا اور جمع ہونا ہے میدان حشر میں خدا کی پیدا کی ہوئی روزی اور نعمتوں سے مغرور نہ بنو اور ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ بس یہی دنیا کی زندگی ہے مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا نہیں ہے تم اس حشر ونشر اور بعث بعد الموت کو زمین سے اگنے والی کھیتیوں کو دیکھ کر سمجھ سکتے ہو کہ کس طرح یہ تخم اور بیج زمین میں دبانے کے بعد پھر زمین سے ابھر رہے ہیں جب کہ یہ مٹی میں مل کر خاک بن گئے تھے اور پھر کچھ عرصہ بعداسی شکل و صورت میں رونماہو رہے ہیں جیسے کہ پہلے تھی تو حشر اور بعث بعد الموت کا یہ نمونہ دنیا کی نظروں کے سامنے ہے جس طرح کہ انسان کو حشر ونشر اور آخرت سے بےخوف نہ ہونا چاہئے اسی طرح اس بات سے بھی بےفکر نہ ہونا چاہئے کہ انسان کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں پر کسی وقت بھی عذاب نازل ہوسکتا ہے تو اس کے لئے فرمایا ، کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس ذات سے کہ جو آسمان میں ہے اس چیز سے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے جب کہ وہ زلزلہ سے لرزنے لگے تو وہی زمین جو تمہارے واسطے مسخر تھی تم اس سے منافع حاصل کرتے تھے اسی سے تم کو رزق ملتا تھا وہی زمین تمہارے واسطے عذاب وقہر بن جائے گی اور تم اس میں دھنسادیئے جاؤ گے پھر کیا تم بےخوف ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ وہ ایک سخت آندھی تم پر چھوڑ دے جو پتھر برسانے والی ہو غرض اس طرح زمین و آسمان سے عذاب خداوندی واقع ہوگا پھر تم جان لوگے کہ کیسا ہے میرا ڈرانا اور دنیا کی نعمتوں اور نفس کی لذتوں نے تم کو فکر آخرت اور خوف خدا سے جو دور کردیا ہے یہ سب ختم ہوجائے گا اور چاہو گے تو اس وقت ایمان لے آؤ لیکن ظاہر ہے عذاب خداوندی نازل ہونے پر ایمان لانا معتبر نہیں انسان کو اس امر سے کسی بھی وقت غافل نہ ہونا چاہئے کہ خدا اور اس کے رسول کی بات جھٹلانے کا کیسا انجام ہوتا ہے چناچہ ظاہر ہے اور بہت سی قوموں نے ان سے پہلے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو تو پھر کیسا ہوا میرا انکار کرنا اور اس پر کیسا ہولناک عذاب نازل ہوا جیسے کہ قوم عاد وثمود کی تاریخ اہل عرب کے سامنے موجود ہے خداوندعالم کی شان کبریائی اور اس کی قدرت آسمان و زمین میں ظاہر ہونے کے ساتھ فضا میں اڑتے ہوئے پرندے بھی اس کی قدرت و عظمت کی گواہی دے رہے ہیں تو کیا انہوں نے نہیں دیکھا پرندوں کو کہ ان کے اوپر کس طرح پر کھولے ہوتے ہیں اور پر جھپکتے بھی ہیں کوئی نہیں ہے ان کو روکے ہوئے بجز رحمن کے وہی پروردگار رحمن ورحیم اپنی قدرت سے انکو فضا میں معلق روکے ہوئے ہے پرندوں کی یہ حالت خدا وندعالم کی کبریائی بڑی ہی عظیم دلیل ہے۔ بیشک وہ پروردگار جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔ حاشیہ (استاذ محترم حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد قرآن میں فرماتے ہیں شاید پرندوں کی مثال بیان کرنے سے یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے عذاب بھیجنے پر قادر ہے اور کفار اپنے کفر وشرارت سے اس کے مستحق بھی ہیں لیکن جس طرح رحمن کی رحمت نے پرندوں کو ہوا میں روک رکھا ہے عذاب بھی اس کی رحمت سے رکا ہوا ہے “ کوئی بعید نہیں اسی لطیف اشارہ کے باعث اس موقعہ پر اللہ کی صفت رحمن ذکر فرمائی گئی ہو حالانکہ یہ امر قدرت سے متعلق ہے تو ظاہر کا تقاضا ہوسکتا تھا کہ صفت قدرت و عظمت کا ذکر ہوتا۔ ) بھلا وہ کون ہے جو لشکر مددگار ہو کر آجائے تمہارے واسطے رحمن کے سوا مدد کرے اور کسی بھی عذاب ومصیبت سے تم کو بچا لے ہرگز ایسا ممکن نہیں کافر تو بس دھوکہ ہی میں پڑے ہوئے ہیں انکو یہ دھوکہ لگا ہوا ہے کہ اگر کوئی عذاب نازل ہوا جس سے ڈرایا جارہا ہے تو ان کے یہ معبود عذاب سے بچا لیں گے یہ ان کا کھلا ہوا دھوکہ ہے سوچنا چاہئے، بھلا وہ کون ہے جو تم کو روزی دے اگر وہ پروردگار اپنا رزق روک لے، دنیا کی طاقت مل کر بھی ایک دانہ زمین سے پیدا نہیں کرسکتی یہ سب باتیں ہر صاحب فہم انسان بڑی سہولت سے سمجھ سکتا ہے لیکن یہ لوگ نہیں سمجھتے بلکہ یہ تو اور زیادہ مضبوطی سے چمٹے رہے اپنی سرکشی پر اور خدا کی اطاعت سے بدکنے پر یقیناً اس گمراہی اور سرکشی کا انجام ہلاکت وتباہی کے سوا کیا ہوسکتا ہے بھلا کیا وہ شخص جو چل رہا ہو اوندھا منہ اپنے سر کے بل راہ راست پر ہے یا وہ شخص جو چل رہا ہے ٹھیک ٹھیک ایک ایسے راستہ پر جو نہایت ہی سیدھا ہے ظاہر ہے کہ صراط مستقیم پر سیدھا چلنے والا انسان ہی کامیاب ہے اور حق پر ہے اور جو اوندھے منہ سر کے بل گھسٹ رہا ہو وہ کیونکر فلاح وسعادت کی منزل تک پہنچ سکتا ہے اسی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو شخص قانون الہی اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ مبارکہ کی پیروی کرے گا وہی منزل مقصود کو پہنچے گا اور وہی مومن صالح ہے اور جو شخص ہوائے نفس میں پھنس کر اللہ اور اس کے رسول سے باغی ہوجائے وہ ٹھوکریں کھاتا رہے گا اور ایک خار دار راستہ پر چلتے ہوئے ایسے عمیق اور گہرے گڑھے میں گرے گا کہ اس سے نکلنے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
Top