Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 21
اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠   ۧ
اَمْوَاتٌ : مردے غَيْرُ : نہیں اَحْيَآءٍ : زندہ وَمَا يَشْعُرُوْنَ : اور وہ نہیں جانتے اَيَّانَ : کب يُبْعَثُوْنَ : وہ اٹھائے جائیں گے
بلکہ وہ تو خود (ایک عاجز) مخلوق ہیں، وہ تو مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور ان کو اس کی بھی کچھ خبر نہیں کہ لوگ کب (دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے،
39۔ معبودان من دون اللہ کی بےعلمی اور بیخبر ی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو کچھ خبر نہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ نہ ان کو خود اپنے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ دوسروں کے بارے میں کی ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اگرچہ عام طور پر اس ارشاد ربانی کو بتوں پر محمول کیا جاتا ہے لیکن لفظ (یبعثون) جو کہ " بعث " سے ماخوذ ہے اس کا مفہوم متبادر اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ " بعث " کے معنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ معنی اس ارشاد کو لکڑی پتھر کے بےجان اور بےحس بتوں پر محمول کرنے سے اباء کرتا ہے۔ کیونکہ بتوں کے اندر پہلے کوئی زندگی تھی ہی نہیں کہ ان کے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کا سوال پیداہو۔ اس لئے " بعث " کا مفہوم اپنے ظاہر اور متبادر معنی کے اعتبار سے اگر صادق آتا ہے تو حضرات انبیاء و صالحین کی ان پاکیزہ ہستیوں پر صادق آتا ہے جن کو ان کے غالی معتقدین نے اپنے غلو کی بناء پر اور ان کی تعلیمات کے خلاف خدائی صفات سے موصوف مانا۔ اور ان کو کہیں " ابن اللہ " قرار دیا اور کہیں انکو " داتاگنج بخش "، " غریب نواز " وغیرہ وغیرہ جیسی خدائی صفات سے موصوف کیا۔ اور ان کو اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے پکارا۔ والعیاذ باللہ۔ مشرکین عرب کے یہاں " ود "، " سواع "، " یغوث "، " یعوق " اور " نسر " کے نام سے جو پانچ بت پائے اور پوجے جاتے تھے وہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق قوم نوح کے ان پانچ بزرگ ہستیوں کے نام پر بنائے گئے تھے جن کے غالی عقیدت مندوں نے ان کی موت کے بعد انہی کے نام سے ان کو گھڑ لیا تھا۔ تاکہ اس طرح ان بتوں کے پاس بیٹھ کر وہ اپنے ان بزرگوں کی یاد تازہ کریں۔ اور بعد میں شیطان کی تلبیس وتحریک پر انہوں نے انہی کی پوجا شروع کردی تھی ، (روح، تفسیر عثمانی ، ، موضع القرآن، تفہیم القرآن وغیرہ) ۔ حضرت عائشہ، ؓ سے ایسی ہی روایت مروی ہے۔ اسی لیے حضرت شاہ عبد القادر (رح) اپنے حاشیہ موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ یہ شاید ان کو فرمایا جو مرے بزرگوں کی پوجتے ہیں بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے فرضی اور وہمی معبودوں کو پوجنا پکارنا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ اور یہ کھلا شرک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Top