Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 102
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
فَمَنْ : پس جو۔ جس ثَقُلَتْ : بھاری ہوئی مَوَازِيْنُهٗ : اس کا تول (پلہ) فَاُولٰٓئِكَ : پس وہ لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
پھر جس کے ایمان و اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا تو وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے
117 فلاح پانے والے اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہونے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز جن لوگوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہی ہوں گے فلاح پانے والے "۔ جن کو دوزخ کی آتش سوزاں سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا۔ اور اس حقیقت کو دوسرے کئی مقامات کی طرح یہاں بھی حصر کے کلمات کریمہ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور بتادیا گیا کہ کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ فلاح اور حقیقی و ابدی کامیابی بہرحال ایسے ہی خوش نصیب لوگوں کو نصیب ہوگی ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحضِ مَنِّہِ وَکَرَمِہٖ فَاِنَّہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَاَکْرَمُ الْاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ وہاں حسب و نسب جیسی کوئی چیز کام نہیں آئے گی، بلکہ اپنا ایمان اور کردار ہی کام آئیگا۔ سو جن کے پلڑے بھاری ہوئے ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی ناکام ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ سب سے بڑے خسارے والے اور ناکام و نامراد لوگ وہ ہوں گے جو فیصلے کے اس یوم عظیم میں ناکام و نامراد ثابت ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اس ناکامی سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top